غزل: لقمان کی حکمت کا مزہ کیوں نہیں لیتے
<p>نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسی مصباحینیویارک امریکہ</p>
<p>لقمان کی حکمت کا مزہ کیوں نہیں لیتےآلام میں راحت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
<p>تلخی میں طبیت کی تغیر کے کھلیں پھولنیموں سے حلاوت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
<p>افکار کی سنگین لڑائی کی زمیں پرلفظوں کی شہادت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
<p>تم طائر تخئیل کو دے کر نئی سمتیںشعروں میں علامت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
<p>تم کر کے فنا خود کو سمندر میں انا کےلوگوں کی ملامت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
<p>اب چھوڑ کے گلزار صراحت کی سیاحتاغلاق سے ندرت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
<p>لمحات کے برفیلے پہاڑوں سے اتر کرسوچوں کی حرارت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
<p>حالات کے ان گرم مکانوں سے نکل کرسردی میں سیاحت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
<p>تم ہجر کی بے تاب شب تار میں قدسیؔاشکوں کی سخاوت کا مزہ کیوں نہیں لیتے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


