شراب کے دینی و دنیوی نقصانات؛ ایک اصلاحی، علمی اور عملی جائزہ
ازقلم:محمد شمیم احمد نوری مصباحی
استاذ:دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤشریف، باڑمیر (راجستھان)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و شعور، قوتِ ارادہ اور فکر و تدبر جیسی عظیم نعمتوں سے نوازا ہے، تاکہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرے، اپنے فرائض ادا کرے اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کرے۔ لیکن جب انسان خود ہی اپنی عقل کو مفلوج اور کردار کو تباہ کرنے پر آمادہ ہو جائے تو اس سے بڑی محرومی کیا ہوگی!
شراب بظاہر چند لمحوں کی سرمستی اور مصنوعی خوشی کا احساس دیتی ہے، مگر حقیقت میں انسان کی صحت، عقل، ایمان، اخلاق، مال اور خاندانی سکون کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے اثرات صرف پینے والے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس کے والدین، بیوی بچوں اور پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔
اسلام دینِ فطرت ہے؛ اسی لیے اس نے شراب کو حرام قرار دے کر انسانی جان، عقل، دین، نسل اور مال کی حفاظت کا اہتمام فرمایا ہے۔
قرآنِ مجید کا فیصلہ: شراب سے مکمل اجتناب
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسے ناپاک شیطانی کام ہیں؛ لہٰذا ان سے مکمل اجتناب کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (سورۃ المائدہ: 90)
اگلی آیت میں ارشاد فرمایا:
إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ۔
ترجمہ: شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے؛ تو کیا تم باز آؤ گے؟ (سورۃ المائدہ: 91)
قرآنِ کریم نے شراب کے روحانی اور معاشرتی نقصانات واضح کرتے ہوئے اس سے مکمل اجتناب کا حکم دیا ہے۔
شراب کی حرمت میں تدریج کی حکمت:
اسلام سے پہلے عرب معاشرے میں شراب نوشی عام تھی۔ اس عادت کے خاتمے کے لیے قرآنِ کریم نے تدریجاً رہنمائی فرمائی۔ پہلے شراب اور جوئے کے نقصانات واضح کیے گئے:
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا۔
ترجمہ: لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ فرما دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فوائد بھی ہیں، لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔ (سورۃ البقرہ: 219)
پھر ارشاد فرمایا:
لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ۔
ترجمہ: نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ تم سمجھنے لگو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ (سورۃ النساء: 43)
بالآخر سورۃ المائدہ کی آیات 90-91 میں شراب سے قطعی اجتناب کا حکم نازل ہوا۔ اس تدریج سے شریعت کی حکمت اور انسانی نفسیات کی رعایت واضح ہوتی ہے؛ تاہم حتمی حکم کے بعد شراب سے اجتناب ہر مسلمان پر لازم ہے۔
شراب کے دینی و روحانی نقصانات:
1۔ اللہ تعالیٰ کی یاد اور نماز سے دوری: شراب انسان کو ذکرِ الٰہی، نماز اور دیگر دینی ذمہ داریوں سے غافل کر سکتی ہے۔ نشے کی حالت میں عبادت کے تقاضے پورے کرنا دشوار ہوتا ہے، جبکہ مسلسل شراب نوشی دینی معمولات کو بھی متاثر کرتی ہے۔
2۔ عقل و شعور کی تباہی: عقل انسان کی بنیادی نعمت ہے، جس کے ذریعے وہ صحیح اور غلط میں امتیاز کرتا ہے۔ شراب فیصلہ سازی، یادداشت، توجہ اور قوتِ ارادی کو متاثر کرتی ہے، جس سے انسان ایسے کام بھی کر بیٹھتا ہے جنہیں ہوش و حواس میں پسند نہیں کرتا۔
3۔ گناہوں اور برائیوں کا خطرہ: نشہ ضبطِ نفس کو کمزور کرکے بدزبانی، جھگڑے، تشدد، بے حیائی اور بعض جرائم کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔ اسی بنا پر احادیث میں شراب کو أُمُّ الْخَبَائِثِ، یعنی برائیوں کی جڑ، کہا گیا ہے۔
4۔ روحانی سکون کا نقصان: شراب وقتی طور پر پریشانیوں سے فرار کا احساس دے سکتی ہے، لیکن مسائل کا حقیقی حل نہیں۔ حقیقی سکون اللہ تعالیٰ کی یاد، نیک اعمال، پاکیزہ تعلقات اور جائز طرزِ زندگی میں ہے۔ ذہنی دباؤ کی صورت میں دعا، صالح صحبت، اہلِ خیر کی رہنمائی اور ضرورت کے مطابق طبی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
شراب کے طبی اور جسمانی نقصانات:
1۔ جگر اور دیگر اعضا کو نقصان: شراب کا مسلسل استعمال جگر میں چربی جمع ہونے، جگر کی سوزش اور سروسس جیسے شدید امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دل، لبلبے، نظامِ ہضم اور اعصابی نظام کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
2۔ دماغ اور اعصابی نظام پر اثرات: شراب یادداشت، توجہ، توازن اور قوتِ فیصلہ کو متاثر کرتی ہے۔ نشے کی حالت میں گرنے، زخمی ہونے اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ طویل مدتی استعمال اعصابی صحت کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
3۔ دل، فشارِ خون اور سرطان: شراب بلند فشارِ خون، دل کی بعض بیماریوں، فالج اور منہ، حلق، غذائی نالی، جگر، بڑی آنت اور چھاتی سمیت متعدد اقسام کے سرطان کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ یہ تصور بھی درست نہیں کہ شراب جسم کو لازماً طاقت دیتی یا سردی سے محفوظ رکھتی ہے؛ وقتی گرمی کا احساس حقیقی تحفظ کی دلیل نہیں۔
4۔ نیند اور ذہنی صحت: اگرچہ بعض لوگ شراب کو نیند لانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن یہ نیند کے معیار کو خراب کر سکتی ہے اور تھکن، اضطراب اور افسردگی کے مسائل بڑھا سکتی ہے۔
5۔ حمل اور آنے والی نسل: حمل کے دوران شراب کا استعمال بچے کی نشوونما کو متاثر اور جنینی الکحل اسپیکٹرم کی خرابیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے حمل کے دوران مکمل اجتناب ضروری ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ شراب نوش والدین کے تمام بچے لازماً معذور پیدا ہوتے ہیں؛ حقیقت یہ ہے کہ شراب تولیدی صحت اور بچے کی نشوونما کے لیے اہم خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
شراب کے نقصانات کی شدت مقدار، مدت اور جسمانی کیفیت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے، لیکن زیادہ اور مسلسل استعمال خطرات کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے۔
شراب کے معاشرتی اور خانگی نقصانات:
1۔ خاندانی سکون کی تباہی: شراب نوشی جب عادت یا لت بن جاتی ہے تو ازدواجی تعلقات، بچوں کی تربیت، باہمی اعتماد اور گھریلو ماحول کو متاثر کرتی ہے۔ بیوی بچوں کو ذہنی دباؤ، بے توجہی، تلخی اور معاشی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
2۔ معاشی بدحالی: شراب پر خرچ ہونے والی رقم بچوں کی تعلیم، گھر کی ضروریات، علاج اور بچت پر صرف ہو سکتی ہے۔ اگر اس کے باعث کام متاثر ہو، ملازمت چھوٹ جائے یا قرض بڑھ جائے تو خاندان کی مشکلات مزید شدید ہو جاتی ہیں۔
3۔ حادثات، تشدد اور جرائم: شراب قوتِ فیصلہ اور ردِعمل کو متاثر کرتی ہے۔ نشے میں گاڑی چلانا یا مشینیں استعمال کرنا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح بعض حالات میں گھریلو تشدد، جھگڑوں اور جرائم کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
4۔ سماجی وقار اور ذمہ داریوں کا نقصان: اگر شراب نوشی انسان کو وعدوں، معاملات، ملازمت اور خاندانی فرائض میں غفلت کا شکار بنا دے تو اس کی عزت، اعتماد اور مستقبل متاثر ہوتے ہیں۔ حقیقی عزت کردار، ذمہ داری اور حقوق کی ادائیگی میں ہے۔
شراب کی خرید و فروخت اور معاونت کا شرعی حکم:
اسلام نے شراب کی حرمت کو صرف پینے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس کی تیاری، خرید و فروخت اور اس کے کاروبار میں معاونت سے بھی منع فرمایا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے شراب کے معاملے میں اس کے بنانے والے، بنوانے والے، پینے والے، اٹھانے والے، پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے اور اس کی قیمت کھانے والے سمیت متعلقہ افراد پر لعنت فرمائی ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الأشربۃ؛ جامع ترمذی، ابواب البیوع)
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ۔
ترجمہ: ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الأشربۃ)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ حرمت کا تعلق محض کسی خاص نام یا مشروب سے نہیں، بلکہ نشہ آور ہونے کی حقیقت سے بھی ہے۔ لہٰذا شراب کو تفریح، فیشن یا جدید طرزِ زندگی کی علامت سمجھنا سنگین فکری غلطی ہے۔
شراب نوشی چھوڑنے کا عملی لائحۂ عمل:
صرف شراب کی برائیاں بیان کرنا کافی نہیں، بلکہ اس سے بچنے اور اس میں مبتلا افراد کی اصلاح کے لیے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
1۔ سچی توبہ اور پختہ ارادہ: شراب نوشی میں مبتلا شخص مایوس نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے سچی توبہ کرے، شراب چھوڑنے کا عزم کرے اور دوبارہ اس سے بچنے کی تدابیر اختیار کرے۔
2۔ بری صحبت سے اجتناب: ایسی محفلوں، دوستوں اور ماحول سے دور رہے جہاں شراب نوشی کی ترغیب ملتی ہو۔ اپنے اوقات کو عبادت، مطالعے، ورزش، مفید سرگرمیوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ مثبت تعلقات سے آباد کرے۔
3۔ طبی مدد حاصل کرنا: اگر شراب نوشی لت بن چکی ہو تو ڈاکٹر یا نشے کے علاج کے ماہر سے مدد لینے میں شرم محسوس نہ کرے۔ خصوصاً روزانہ یا زیادہ مقدار میں شراب پینے والے افراد اسے اچانک چھوڑنے سے پہلے طبی مشورہ ضرور لیں، کیونکہ ترکِ شراب سے شدید کپکپی، دورے، ذہنی الجھن اور جان لیوا پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسی شدید علامات کی صورت میں فوری طبی امداد ضروری ہے۔
4۔ خاندان کا تعاون: شراب نوش شخص کی اصلاح حکمت، خیرخواہی اور ہمدردی سے کی جائے۔ محض طعن و تشنیع اور تذلیل عموماً مؤثر نہیں ہوتی۔ تاہم ہمدردی کا مطلب نقصان دہ رویوں کو برداشت کرنا نہیں؛ تشدد یا خطرے کی صورت میں متاثرہ افراد کی حفاظت مقدم ہے۔
5۔ نوجوانوں میں شعور بیدار کرنا: والدین، علما، اساتذہ اور سماجی رہنما نوجوانوں کو شراب کے دینی و طبی نقصانات سے آگاہ کریں۔ انہیں سمجھایا جائے کہ حقیقی بہادری نشہ آزمانے میں نہیں، بلکہ خواہشات پر قابو پانے اور غلط ماحول کے سامنے انکار کرنے میں ہے۔
6۔ اصلاحی ماحول کی تشکیل: مساجد، مدارس، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں شراب کے نقصانات سے متعلق آگاہی پیدا کریں، نشے میں مبتلا افراد کے علاج و بحالی میں تعاون کریں اور متاثرہ خاندانوں کی رہنمائی کریں۔ معاشرتی اصلاح مذمت کے ساتھ تعلیم، علاج اور عملی تعاون سے ممکن ہے۔
وقتی سرور نہیں، دائمی فلاح کا انتخاب:
شراب چند لمحوں کی سرمستی تو دے سکتی ہے، مگر زندگی کے مسائل حل نہیں کرتی؛ بلکہ عقل، صحت، عبادت، کردار، مال اور خاندانی سکون کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انسان کی زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت، اس کا جسم نعمت، اس کی عقل قیمتی سرمایہ اور اس کے اہل و عیال اس کی ذمہ داری ہیں۔ ان سب کی حفاظت دینی و دنیاوی ضرورت ہے۔
آئیے! ہم خود بھی شراب اور تمام نشہ آور چیزوں سے اجتناب کریں، اپنے اہل و عیال کو ان کے نقصانات سے آگاہ کریں اور نشے میں مبتلا افراد کی اصلاح و علاج میں حکمت کے ساتھ تعاون کریں۔ ہمارا مقصد ایسا پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینا ہو جہاں عقل و شعور کی قدر، خاندانوں کا تحفظ، نوجوانوں کی کردار سازی اور رضائے الٰہی کو زندگی کا اصل مقصد سمجھا جائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کے نشے اور برائی سے محفوظ فرمائے، ہمارے ایمان، عقل، صحت، کردار اور اہل و عیال کی حفاظت فرمائے، اور جو لوگ اس آفت میں مبتلا ہیں، انہیں سچی توبہ، علاج اور اصلاح کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔
تبصرے (0)
شائع کردہ
Active Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

نگاہوں کی آوارگی اور دلوں کی ویرانی

نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی: اسباب و علاج



