امام جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ: حیات و خدمات
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
رابطہ: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا، انڈیا
اسلامی تاریخ کے دامن میں ایسی عظیم علمی شخصیات کی کمی نہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم و معرفت، تحقیق و تدقیق، تصنیف و تالیف اور خدمتِ دین کے لیے وقف کردی، لیکن بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی علمی وسعت، تصنیفی کثرت اور ہمہ جہت خدمات دیکھ کر انسان حیرت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ بھی اسلامی تاریخ کی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی مختصر زندگی میں علومِ اسلامیہ کے تقریباً ہر اہم شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ محدث بھی تھے، مفسر بھی، فقیہ بھی، اصولی بھی، مورخ بھی، لغوی بھی، نحوی بھی اور ادیب بھی۔ آپ کی شخصیت بیک وقت کئی علمی میدانوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی اور آپ کی تصانیف آج بھی اسلامی علمی ورثے کا ایک قیمتی حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
آپ کا نام عبد الرحمن بن ابی بکر بن محمد بن سابق الدین الخضیری السیوطی الشافعی تھا اور لقب جلال الدین تھا۔ آپ کی نسبت مصر کے شہر سیوط کی طرف ہے، اسی مناسبت سے آپ ’’سیوطی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ 849ھ میں قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک صاحبِ علم شخصیت تھے، لیکن ابھی آپ کم سن ہی تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ یتیمی کے اس ابتدائی مرحلے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی ذہانت، قوتِ حافظہ اور علم کا ایسا شوق عطا فرمایا کہ آپ نے کم عمری ہی میں قرآنِ کریم حفظ کرلیا اور پھر پوری زندگی علم کے حصول، تحقیق اور اشاعت میں گزار دی۔
امام سیوطیؒ کا زمانہ اسلامی علوم کی نشوونما کے اعتبار سے نہایت اہم تھا۔ مصر خصوصاً قاہرہ اس وقت علم و فضل کا ایک بڑا مرکز تھا۔ مختلف علاقوں سے علماء وہاں آتے، تدریس کرتے اور علمی مجالس قائم کرتے تھے۔ امام سیوطیؒ نے اس علمی ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے قرآن و حدیث، فقہ و اصول، نحو و صرف، لغت و ادب، تاریخ و سیرت اور دیگر علوم کی تحصیل کی اور متعدد جلیل القدر علماء سے استفادہ کیا۔ ان کا علمی ذوق محض کتابیں پڑھ لینے تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اپنے زمانے کے علمی ذخیرے کو گہرائی سے سمجھنے، سابقہ علماء کے کام کو جمع کرنے اور اسے آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا جذبہ رکھتے تھے۔
امام سیوطیؒ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں ان کا غیر معمولی حافظہ، وسیع مطالعہ اور غیر معمولی تصنیفی قوت شامل ہے۔ انہوں نے بہت کم عمر میں تصنیف کا آغاز کیا اور زندگی کے آخری دور تک یہ علمی سلسلہ جاری رکھا۔ ان کی تصانیف کی تعداد کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان مختلف اقوال ملتے ہیں؛ بعض نے پانچ سو سے زائد، بعض نے اس سے بھی زیادہ کتابوں اور رسائل کا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ تعداد کے تعین میں اختلاف ہے، لیکن اس حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں کہ امام سیوطیؒ اسلامی تاریخ کے کثیر التصانیف علماء میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی خدمات کی اہمیت صرف کتابوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ انہوں نے مختلف علوم کے بکھرے ہوئے مواد کو جمع کیا، اسے مرتب کیا اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کردیا۔
علومِ قرآن کے میدان میں امام سیوطیؒ کی خدمات نہایت عظیم ہیں۔ ان کی مشہور کتاب ’’الاتقان فی علوم القرآن‘‘ اس موضوع پر لکھی جانے والی جامع ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب میں قرآنِ کریم کے نزول، مکی و مدنی سورتوں، اسبابِ نزول، جمع و تدوینِ قرآن، ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، قراءات، وجوہ و نظائر، اعجازِ قرآن اور دیگر متعدد علوم و مباحث کو جمع کیا گیا ہے۔ ’’الاتقان‘‘ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ مصنف نے علومِ قرآن کے مختلف ابواب کو ایک وسیع علمی دائرے میں جمع کرکے طالبِ علم اور محقق کے لیے ایک جامع مرجع فراہم کردیا۔ آج بھی علومِ قرآن کا طالب علم جب اس میدان میں بنیادی اور وسیع مطالعہ کرنا چاہتا ہے تو امام سیوطیؒ کی اس تصنیف سے ضرور استفادہ کرتا ہے۔
اسی طرح ’’التحبیر فی علم التفسیر‘‘ بھی امام سیوطیؒ کی قرآنی خدمات کا اہم شاہکار ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام سیوطیؒ نے قرآنِ کریم کے صرف ظاہری معانی ہی پر توجہ نہیں دی بلکہ تفسیر کے اصول، مفسر کے لیے ضروری علوم اور قرآن فہمی کے مختلف پہلوؤں پر بھی گہری نظر رکھی۔
تفسیر کے میدان میں ان کی سب سے معروف تصانیف میں ’’الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور‘‘ کا نام آتا ہے۔ یہ تفسیر روایتی مواد کے اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ امام سیوطیؒ نے اس میں آیاتِ قرآنیہ کی تفسیر کے سلسلے میں احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہ اور اقوالِ تابعین و سلف کو بڑی وسعت کے ساتھ جمع کیا۔ اس کتاب کی ایک بڑی علمی خدمت یہ ہے کہ اس نے تفسیری روایات کے ایک وسیع ذخیرے کو ایک جگہ فراہم کردیا۔ بعد کے مفسرین اور محققین نے اس سے استفادہ کیا اور آج بھی یہ کتاب تفسیر بالمأثور کے اہم مصادر میں شمار ہوتی ہے۔
حدیث کے میدان میں بھی امام سیوطیؒ نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے حدیث کے مختلف ذخائر کا مطالعہ کیا، روایات کو جمع کیا اور انہیں موضوعاتی اور علمی ترتیب کے ساتھ پیش کیا۔ ’’الجامع الصغیر من أحادیث البشیر النذیر‘‘ ان کی مشہور حدیثی کتاب ہے، جس میں مختلف موضوعات سے متعلق احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ اسی طرح ’’جمع الجوامع‘‘ ان کے وسیع حدیثی منصوبے کی اہم کتاب ہے۔ اس کے ذریعے انہوں نے مختلف حدیثی مصادر سے مواد جمع کرکے ایک وسیع مجموعہ مرتب کرنے کی کوشش کی۔ ’’تدریب الراوی‘‘ بھی علومِ حدیث کے میدان میں ان کی ایک نہایت اہم تصنیف ہے، جو امام نوویؒ کی ’’التقریب والتيسير‘‘ سے متعلق شرح و توضیح کا کام کرتی ہے اور اصولِ حدیث کے طالب علموں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس طرح امام سیوطیؒ نے صرف احادیث جمع نہیں کیں بلکہ علمِ حدیث کے اصول اور اصطلاحات کی تفہیم میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
فقہ اور اصولِ فقہ کے میدان میں بھی امام سیوطیؒ کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ آپ شافعی فقیہ تھے اور فقہی مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ’’الأشباه والنظائر‘‘ فقہی قواعد کے موضوع پر ان کی مشہور کتاب ہے، جس میں فقہی اصول و قواعد اور ان کے تحت آنے والے متعدد مسائل کو منظم کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اس بات کی دلیل ہے کہ امام سیوطیؒ جزوی مسائل کے ساتھ ساتھ فقہ کے اصولی اور قواعدی پہلوؤں سے بھی بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے فقہی مسائل کو محض الگ الگ فروع کی صورت میں نہیں دیکھا بلکہ ان کے درمیان پائے جانے والے اصولی ربط کو واضح کیا۔
عربی زبان و ادب کے میدان میں بھی امام سیوطیؒ کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ قرآن و حدیث کی زبان عربی ہے، اس لیے ان کے نزدیک دینی علوم کے صحیح فہم کے لیے عربی زبان پر مضبوط دسترس ضروری تھی۔ ’’المزهر فی علوم اللغة وأنواعها‘‘ عربی زبان اور اس کے مختلف علوم پر ان کی اہم ترین تصانیف میں سے ہے۔ اس کتاب میں لغت اور زبان کے مختلف مباحث کو وسیع انداز میں جمع کیا گیا ہے۔ اسی طرح ’’همع الهوامع فی شرح جمع الجوامع‘‘ نحو کے میدان میں ان کی معروف کتاب ہے۔ ان تصانیف سے معلوم ہوتا ہے کہ امام سیوطیؒ صرف علومِ نقلیہ کے عالم نہیں تھے بلکہ عربی زبان کے دقیق اور فنی مباحث پر بھی مضبوط گرفت رکھتے تھے۔
تاریخ اور سیرت کے میدان میں بھی امام سیوطیؒ نے اہم علمی خدمات انجام دیں۔ ’’تاریخ الخلفاء‘‘ ان کی معروف تاریخی کتاب ہے جس میں خلفائے اسلام کے حالات، ان کے ادوار اور اسلامی تاریخ کے اہم واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب اسلامی تاریخ کے مطالعے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ سیرت، طبقات، رجال اور تاریخی واقعات سے متعلق بھی ان کی متعدد تصانیف ہیں۔ ان کے تاریخی کام کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے سابقہ مؤرخین کے مواد کو محفوظ کیا اور اسے بعد کی نسلوں کے لیے منتقل کیا۔
امام سیوطیؒ نے علمِ رجال اور رواۃ کے حالات سے متعلق بھی علمی کام کیا۔ ان کی تصانیف میں مختلف راویوں، علماء اور اہلِ علم کے حالات سے متعلق مواد ملتا ہے۔ یہ خدمت اس لیے اہم ہے کہ حدیثی اور تاریخی روایت کی صحت اور علمی قدر کو سمجھنے کے لیے رواۃ اور سابقہ اہلِ علم کے حالات سے واقفیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
امام سیوطیؒ کی ایک اہم علمی خدمت یہ بھی ہے کہ انہوں نے سابقہ علماء کی کتابوں اور اقوال کو محفوظ کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ بہت سی قدیم تصانیف جو بعد کے زمانے میں نایاب ہوگئیں یا جن کا اصل متن آسانی سے دستیاب نہ رہا، ان کے اقتباسات اور علمی مواد امام سیوطیؒ کی کتابوں میں محفوظ ہوگئے۔ اس اعتبار سے وہ صرف مصنف نہیں بلکہ ایک عظیم علمی امین بھی تھے۔ انہوں نے اپنے سے پہلے گزرنے والے علماء کے علمی سرمائے کو ضائع ہونے سے بچانے اور اسے آگے منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
امام سیوطیؒ کے علمی منہج میں جمع و ترتیب کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ وہ مختلف مصادر سے مواد حاصل کرتے، سابقہ علماء کے اقوال نقل کرتے، مختلف روایات اور علمی آرا کو ایک جگہ جمع کرتے اور پھر انہیں موضوع کے اعتبار سے مرتب کرتے۔ ان کا یہ طریقۂ کار آج کے محققین کے لیے بھی نہایت اہم سبق رکھتا ہے کہ تحقیق صرف نئی بات کہہ دینے کا نام نہیں بلکہ سابقہ علمی سرمایہ تلاش کرنا، اس کا تنقیدی مطالعہ کرنا، اسے درست حوالے کے ساتھ محفوظ کرنا اور پھر ضرورت کے مطابق آگے بڑھانا بھی تحقیق کا بنیادی حصہ ہے۔
امام سیوطیؒ کی زندگی میں علم کے ساتھ جو غیر معمولی وابستگی نظر آتی ہے، وہ موجودہ دور کے طلبہ کے لیے خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ آج ہمارے پاس کتابیں، کتب خانے اور ڈیجیٹل ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں، لیکن اس کے باوجود گہرے مطالعے اور تحقیق کی عادت کمزور ہوتی جارہی ہے۔ امام سیوطیؒ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ علم کے لیے محض ذرائع کا ہونا کافی نہیں، بلکہ وقت دینا، مسلسل پڑھنا، سمجھنا، نوٹس لینا، تحقیق کرنا اور علم کو دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے۔
ان کی زندگی کا ایک اہم پہلو علمی استقلال بھی ہے۔ انہوں نے علم کو محض دنیاوی شہرت، منصب یا مال حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے دین کی خدمت اور علمی ورثے کی حفاظت کا وسیلہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتابیں ان کی وفات کے بعد بھی زندہ رہیں اور نسل در نسل اہلِ علم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتی رہیں۔
امام سیوطیؒ کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے کے مختلف علوم کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے دیکھا۔ ان کے ہاں قرآن کو حدیث سے، حدیث کو فقہ سے، فقہ کو اصول سے، اور ان سب کو عربی زبان و ادب سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی جامع علمی दृष्टि ان کی تصانیف میں نمایاں نظر آتی ہے۔ آج جب علمی شعبے بہت زیادہ تخصصی ہوگئے ہیں، امام سیوطیؒ کی یہ جامعیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ تخصص کے ساتھ بین العلوم مطالعہ بھی ضروری ہے، کیونکہ اسلامی علوم ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
عصرِ حاضر میں امام سیوطیؒ کی علمی خدمات کی افادیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ آج سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے دینی معلومات بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں، مگر ہر نقل شدہ حدیث، ہر تفسیری بات اور ہر تاریخی واقعہ مستند نہیں ہوتا۔ ایسے ماحول میں امام سیوطیؒ کی تصانیف اور ان کا علمی منہج ہمیں مصادر کی طرف رجوع، علمی تحقیق اور مستند مواد کی تلاش کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ عالم کو صرف معلومات کا حامل نہیں بلکہ تحقیق، تنقید اور علمی دیانت کا امین بھی ہونا چاہیے۔
خصوصاً نوجوان علماء، طلبہ اور اہلِ قلم کے لیے امام سیوطیؒ کی زندگی ایک عظیم نمونہ ہے۔ ان کی حیات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علمی مقام صرف ذہانت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے مسلسل محنت، وسیع مطالعہ، اساتذہ کی صحبت، وقت کی پابندی، علمی ذوق، استقامت اور خدمت کا جذبہ ضروری ہے۔ اگر آج کا طالب علم ان کی زندگی سے صرف وقت کی قدر، مطالعے کی وسعت، تحقیق کی عادت اور علم کو آگے منتقل کرنے کا جذبہ حاصل کرلے تو اس کی علمی زندگی میں ایک نمایاں انقلاب آسکتا ہے۔
امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے 911ھ میں وفات پائی، لیکن ان کا علمی سفر ان کے وصال کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ ان کی کتابیں آج بھی مدارس و جامعات کے کتب خانوں میں موجود ہیں، محققین ان سے استفادہ کرتے ہیں، طلبہ ان کا مطالعہ کرتے ہیں اور اہلِ علم ان کی تحقیقات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہی کسی عالم کی حقیقی کامیابی ہے کہ اس کا جسم دنیا سے رخصت ہوجائے لیکن اس کا علم زندہ رہے اور اس کے علمی آثار لوگوں کے لیے نفع کا ذریعہ بنتے رہیں۔
بلاشبہ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ اسلامی علمی تاریخ کے ان روشن میناروں میں سے ہیں جن کی روشنی زمانے کی گردش سے کم نہیں ہوئی۔ انہوں نے قرآن کے علوم کو مرتب کیا، تفسیری روایات کو جمع کیا، حدیثی ذخیرے کی خدمت کی، اصولِ حدیث کو واضح کیا، فقہی قواعد کو منظم کیا، عربی زبان و ادب کے مباحث کو محفوظ کیا، تاریخ و سیرت کے مواد کو مرتب کیا اور متعدد علوم کے قیمتی سرمائے کو آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی عملی تفسیر ہے کہ ایک انسان اگر اخلاص، محنت اور علمی ذوق کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو دین و ملت کے لیے وقف کردے تو اس کی زندگی ختم ہونے کے بعد بھی اس کا فیض جاری رہتا ہے۔
آج امام سیوطیؒ کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ صرف ان کی کثرتِ تصانیف کا ذکر کرنا نہیں بلکہ ان کے علمی مزاج کو اپنانا ہے۔ ہمیں کتاب سے تعلق مضبوط کرنا ہوگا، معتبر مصادر کی طرف رجوع کرنا ہوگا، تحقیق کے اصولوں کو اختیار کرنا ہوگا، وقت کو ضائع ہونے سے بچانا ہوگا اور اپنے علم کو دوسروں کے لیے نفع بخش بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم ان عظیم اسلاف کے علمی ورثے کے حقیقی وارث بن سکتے ہیں۔
امام سیوطیؒ کی زندگی ہمیں آخرکار یہی پیغام دیتی ہے کہ دنیا کی زندگی محدود ہے، مگر علم کا اثر لامحدود ہوسکتا ہے۔ انسان کا اصل سرمایہ وہ علم ہے جو اس کے بعد بھی زندہ رہے، وہ کتاب ہے جو اس کے بعد بھی پڑھی جائے، وہ فکر ہے جو نسلوں کو متاثر کرے اور وہ خدمت ہے جس سے لوگ مدتوں فائدہ اٹھاتے رہیں۔ امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کی اور اسی لیے آج صدیوں بعد بھی ان کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کی حیات و خدمات اسلامی علمی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہیں جو طلبہ، محققین، اساتذہ اور اہلِ قلم سب کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔
تبصرے (0)
شائع کردہ
Active Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

مناظر اہل سنت، مظہرِ اعلیٰ حضرت، شیر بیشہ سنت، علامہ حشمت علی خان علیہ الرحمہ

سرکار فخر بہار مفتی غلام رسول حشمتی علیہ الرحمۃ و الرضوان؛ حیات و خدمات (قسط اول)



