Hamari Aawaz

نگاہوں کی آوارگی اور دلوں کی ویرانی

مضامین و مقالات ← اصلاح معاشرہ
📅 29-10-2026 👁 26 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 4 شیئر
شائع کردہ: محمد شعیب رضا badge

تحریر : شیخ مصطفی الرحمٰن
دار الہدیٰ اسلامک یونیورسٹی

انسان کی آنکھیں محض دیکھنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اس کے باطن کی کھڑکیاں بھی ہیں۔ ان کے ذریعے دنیا کے رنگ انسان کے اندر اترتے ہیں، مناظر خیالات میں ڈھلتے ہیں، خیالات احساسات کو جنم دیتے ہیں اور احساسات رفتہ رفتہ کردار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ نگاہ بظاہر ایک لمحے کا عمل ہے، لیکن اس کے اثرات کبھی کبھی برسوں تک انسان کی شخصیت میں باقی رہتے ہیں۔ ایک منظر دل میں ایسی جگہ بنا لیتا ہے جسے وقت بھی آسانی سے خالی نہیں کر پاتا، ایک چہرہ ذہن پر ایسی دستک دیتا ہے جو تنہائی میں بھی سنائی دیتی رہتی ہے، اور ایک بے احتیاط نظر انسان کو ایسے راستے پر ڈال سکتی ہے جس کی منزل کا اسے ابتدا میں کوئی اندازہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی تہذیبوں نے ہمیشہ نگاہ کو محض ایک جسمانی صلاحیت نہیں سمجھا، بلکہ اسے اخلاق، تربیت، شعور اور خود احتسابی سے وابستہ رکھا ہے۔ آنکھ کا دیکھنا فطری ہے، مگر ہر دیکھی جانے والی چیز کو خواہش کا موضوع بنا لینا فطرت کی سادگی سے آگے بڑھ کر نفس کی بے لگامی بن جاتا ہے۔
ہم جس عہد میں سانس لے رہے ہیں، اس میں آنکھوں کے سامنے مناظر کی کوئی کمی نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ مناظر کی کثرت نے نگاہ کی سنجیدگی کو کمزور کر دیا ہے۔ کبھی انسان کسی منظر تک پہنچنے کے لیے سفر کرتا تھا، اب منظر خود اس کے ہاتھ میں موجود ایک چھوٹی سی اسکرین کے ذریعے ہر وقت اس تک پہنچ رہا ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز، اشتہارات اور تفریح کے نت نئے ذرائع نے دیکھنے کو روزمرہ زندگی کا ایسا مستقل حصہ بنا دیا ہے جس سے الگ ہونا دشوار محسوس ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں آنکھ صرف دیکھتی نہیں، مسلسل انتخاب بھی کرتی ہے؛ ذہن ہر لمحہ نئی تصویروں، نئے چہروں اور نئے تاثر ات کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے۔ لیکن اس مسلسل مشغولیت کے باوجود انسان کے اندر سکون بڑھنے کے بجائے بے چینی، توجہ کی کمی اور دوسروں سے غیر ضروری تقابل کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔ یہ تضاد ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا دیکھنے کے بڑھتے ہوئے مواقع نے ہماری بصیرت میں بھی اضافہ کیا ہے، یا ہم نے نگاہ کو مصروف رکھتے رکھتے اس کی اخلاقی ذمہ داری ہی کو فراموش کر دیا ہے؟

نگاہ کی بے احتیاطی کا مسئلہ صرف اس وقت پیدا نہیں ہوتا جب کوئی شخص کھلم کھلا کسی کی عزت کو پامال کرے۔ اس کی ابتدا اکثر ایک معمولی سی بے توجہی سے ہوتی ہے؛ کسی کو اس کی مرضی کے بغیر مسلسل دیکھنا، کسی کے لباس یا جسم کو اپنی تفریح کا موضوع بنانا، کسی کی تصویر کو اس کی شخصیت سے الگ کرکے محض ایک قابلِ استعمال شے سمجھنا، یا کسی کی موجودگی کو اس طرح محسوس کرنا گویا اس کا وجود صرف دوسروں کی نگاہوں کی تسکین کے لیے ہے۔ یہ تمام رویے بظاہر چھوٹے دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن ان کے پیچھے ایک ایسا ذہنی تصور کارفرما ہوتا ہے جو دوسرے انسان کو ایک مکمل شخصیت کے بجائے ایک منظر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ انسان کی عزت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اس کی مرضی، احساسات، حدود اور انسانی وقار سمیت دیکھا جائے۔ جب نگاہ ان تمام پہلوؤں کو نظر انداز کرکے صرف ظاہری شکل پر ٹھہر جاتی ہے تو دیکھنے والا بھی اپنی اخلاقی بصیرت کا ایک حصہ کھو بیٹھتا ہے۔

اصل بے حیائی ہمیشہ لباس یا ظاہری وضع قطع سے شروع نہیں ہوتی؛ بعض اوقات اس کی ابتدا دیکھنے والے کی سوچ میں ہوتی ہے۔ کوئی شخص مکمل لباس میں بھی دوسروں کی نگاہوں کا نشانہ بن سکتا ہے، اور کوئی شخص کسی کو دیکھتے ہوئے اپنے اندر ایسی بے راہ روی کو جگہ دے سکتا ہے جس کا اظہار اس کے چہرے سے بھی نہ ہو۔ اس لیے اخلاقی مسئلے کو صرف ظاہری علامتوں تک محدود کر دینا حقیقت کے ایک بڑے حصے سے آنکھیں بند کر لینے کے مترادف ہے۔ لباس، معاشرتی آداب اور ظاہری رکھ رکھاؤ اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن نگاہ کی پاکیزگی کا تعلق اس ذہن سے بھی ہے جو دوسرے انسان کو دیکھتا ہے، اس ارادے سے بھی ہے جو دیکھنے کے عمل کے پیچھے موجود ہوتا ہے، اور اس رویے سے بھی ہے جو اس نگاہ کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ اگر انسان دوسروں سے احترام کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اپنی نگاہ اور اپنے طرزِ عمل میں بھی احترام کی بنیاد قائم کرنا ہوگی۔ محض دوسروں کے لباس پر گفتگو کرنا اور اپنی نگاہ کے رویے کا جائزہ نہ لینا اخلاقی اصلاح نہیں، بلکہ ذمہ داری کو دوسروں کی طرف منتقل کر دینے کی ایک صورت ہے۔

اسلامی تعلیمات نے اسی لیے نگاہ کے معاملے کو انسانی کردار کی تعمیر سے جوڑا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ، یعنی ایمان والوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔ (سورۃ النور: 30) اس حکم میں محض ایک ظاہری پابندی نہیں، بلکہ انسانی نفس کی تربیت کا ایک بنیادی اصول پوشیدہ ہے۔ نگاہ کو قابو میں رکھنا دراصل اپنے ارادے کو قابو میں رکھنے کی مشق ہے۔ انسان دنیا کے ہر منظر کو اپنی خواہش کے تابع نہیں کر سکتا، لیکن وہ یہ طے کر سکتا ہے کہ کن چیزوں کو اپنے ذہن میں جگہ دینی ہے اور کن چیزوں سے اپنی توجہ ہٹا لینی ہے۔ یہی اختیار انسان کو محض خواہشات کے تابع ایک مخلوق کے بجائے اخلاقی ذمہ داری رکھنے والی ہستی بناتا ہے۔ قرآن مجید میں عورتوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت کی حفاظت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ (سورۃ النور: 31) اس طرح اخلاقی ذمہ داری کسی ایک جنس تک محدود نہیں رہتی، بلکہ مرد اور عورت دونوں اپنی نگاہ، نیت اور کردار کے جواب دہ ہیں۔

نگاہ کی حفاظت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا سے آنکھیں بند کر لے، لوگوں سے بے تعلق ہو جائے یا ہر منظر کو شک اور بدگمانی کی نظر سے دیکھنے لگے۔ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی نظر کو شعور، احترام اور حدود کا پابند بنائے۔ ایک ڈاکٹر مریض کا معائنہ کرتا ہے، ایک استاد طالب علم کی کارکردگی دیکھتا ہے، ایک محقق کسی واقعے کا مشاہدہ کرتا ہے اور ایک عام انسان اپنے اردگرد کے ماحول سے واقفیت حاصل کرتا ہے؛ ان تمام صورتوں میں دیکھنے کا مقصد اور اس کا اخلاقی تناظر مختلف ہوتا ہے۔ مسئلہ دیکھنے میں نہیں، بلکہ دیکھنے کے اس رویے میں ہے جو انسان کو اپنی خواہشات کے ہاتھوں دوسروں کی حرمت پامال کرنے پر آمادہ کر دے۔ اس لیے نگاہ کی پاکیزگی کا تعلق محض آنکھ جھکا لینے سے نہیں، بلکہ اپنی نیت کو درست رکھنے، دوسروں کی حدود کا احترام کرنے اور اپنے اختیار کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنے سے ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی نگاہ آخر بے قابو کیوں ہوتی ہے؟ اس کا جواب صرف ایک وجہ میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی نفسیات، ماحول، تربیت، عادات، جذباتی ضروریات اور معاشرتی رویے سب مل کر اس کے طرزِ نظر کی تشکیل کرتے ہیں۔ انسان کی توجہ فطری طور پر نئی، غیر معمولی اور دل کش چیزوں کی طرف مائل ہوتی ہے۔ لیکن یہی فطری میلان جب بے اعتدالی، مسلسل تحریک اور خود احتسابی کی کمی سے دوچار ہو جائے تو انسان کے لیے اپنی توجہ کو منظم رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ جو چیز ابتدا میں محض تجسس ہوتی ہے، وہ بار بار توجہ دینے سے عادت بن سکتی ہے؛ اور عادت اگر خواہش کے ساتھ مل جائے تو انسان کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ تاہم یہ سمجھنا بھی درست نہیں کہ ہر غیر ارادی خیال یا اچانک پڑ جانے والی نظر اخلاقی ناکامی ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی توجہ کو کہاں لے جاتا ہے، کس رویے کو بار بار اختیار کرتا ہے اور جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو اس کے بعد کیا کرتا ہے۔

اسی مقام پر نظر اور نیت کے درمیان تعلق سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ انسان کے اندر کوئی خیال پیدا ہونا اور اس خیال کو دانستہ طور پر پروان چڑھانا ایک ہی بات نہیں۔ کسی اچانک سامنے آنے والے منظر پر نظر پڑ جانا ایک غیر اختیاری واقعہ ہو سکتا ہے، لیکن اسی منظر کو دوبارہ تلاش کرنا، اس پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنا یا اسے کسی کی بے عزتی کا ذریعہ بنانا انسان کے اختیار سے متعلق معاملات ہیں۔ اخلاقی تربیت کا مقصد انسان کو اس کے ہر غیر ارادی احساس پر مجرم ٹھہرانا نہیں، بلکہ اسے اپنے اختیار کی حدود پہچاننا سکھانا ہے۔ جب انسان یہ فرق سمجھ لیتا ہے تو اس کے لیے اصلاح کا راستہ زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ وہ محض احساسِ جرم میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنی عادتوں کو بدلنے، اپنے ماحول کو بہتر بنانے اور اپنے طرزِ عمل کی نگرانی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

آج کے ڈیجیٹل ماحول نے نگاہ کے اس مسئلے کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ سوشل میڈیا پر موجود مواد کی کثرت، صارف کی دلچسپی کے مطابق مسلسل سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز، اور چند لمحوں میں ایک منظر سے دوسرے منظر تک پہنچ جانے کی سہولت نے انسانی توجہ کو ایک مستقل آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ انسان کسی ایک تصویر کو دیکھتا ہے، پھر اسی نوعیت کا دوسرا مواد سامنے آ جاتا ہے، اور یوں ایک مختصر سا وقفہ طویل مشغولیت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کے لیے صارف کی توجہ ایک اہم قدر رکھتی ہے؛ اسی لیے بعض نظام اس مواد کو بار بار سامنے لاتے ہیں جس کے ساتھ صارف زیادہ وقت گزارتا ہے۔ نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ انسان اپنی پسند اور اپنی عادت کے درمیان فرق کرنا بھول جائے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ محض اپنی مرضی سے دیکھ رہا ہے، حالاں کہ اس کی توجہ ایک ایسے ماحول میں تشکیل پا رہی ہوتی ہے جو اسے مسلسل مصروف رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس مسئلے کا حل ٹیکنالوجی سے مکمل کنارہ کشی نہیں، بلکہ اس کے استعمال میں شعوری نظم پیدا کرنا ہے۔ انسان اپنے موبائل فون پر کیا دیکھتا ہے، کن صفحات کو فالو کرتا ہے، کس نوعیت کے مواد پر اپنا وقت صرف کرتا ہے اور کن سرگرمیوں کے بعد ذہنی سکون محسوس کرتا ہے، ان تمام باتوں کا جائزہ لے سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص جانتا ہے کہ مخصوص قسم کا مواد اس کی توجہ کو منتشر کرتا ہے یا اسے ایسی عادتوں کی طرف لے جاتا ہے جن سے وہ بچنا چاہتا ہے، تو اسے اپنی ڈیجیٹل مصروفیات کی ترتیب بدلنے میں تامل نہیں کرنا چاہیے۔ غیر ضروری اکاؤنٹس سے دوری، اسکرین کے استعمال کے لیے واضح حدود، مطالعے اور مفید سرگرمیوں کے لیے وقت مقرر کرنا، اور تنہائی کے اوقات میں اپنی مصروفیت کو بامقصد بنانا ایسے عملی اقدامات ہیں جو رفتہ رفتہ بہتر عادتیں پیدا کر سکتے ہیں۔ نگاہ کی حفاظت صرف اس لمحے کا فیصلہ نہیں، بلکہ اس ماحول کی تشکیل بھی ہے جس میں انسان روزانہ اپنے فیصلے کرتا ہے۔

اس بحث کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہم نے بعض معاشرتی رویوں کو اس قدر معمول بنا لیا ہے کہ ان کی اخلاقی سنگینی محسوس کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کسی خاتون کے گزرنے پر آوازیں کسنا، کسی کے لباس پر نازیبا تبصرہ کرنا، اجنبی افراد کو مسلسل گھورتے رہنا، کسی کی تصویر اس کی اجازت کے بغیر محفوظ کرنا یا آگے پھیلانا، اور سوشل میڈیا پر کسی کے ظاہری حلیے کو تضحیک کا موضوع بنانا ایسے رویے ہیں جنہیں بعض لوگ معمولی تفریح سمجھتے ہیں۔ لیکن جس شخص کے لیے یہ عمل تکلیف، خوف یا عدم تحفظ کا سبب بنتا ہے، اس کے تجربے کو محض مذاق کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کی خاموشی اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسے تکلیف نہیں پہنچی، اور کسی کے احتجاج نہ کرنے سے کسی دوسرے شخص کو اس کی حدود پامال کرنے کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ تہذیب کا معیار صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ کس قدر خوش اخلاق ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم ان اجنبیوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں جن سے ہمیں کوئی ذاتی فائدہ حاصل ہونے کی توقع نہیں ہوتی۔

یہاں ایک بنیادی اخلاقی حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ انسان کی عزت اس کے ظاہری حسن، لباس، عمر یا سماجی حیثیت کی محتاج نہیں۔ ہر انسان اپنی ذات میں احترام کا مستحق ہے۔ کسی کی خوب صورتی اسے دوسروں کی غیر ضروری توجہ کا حق دار نہیں بناتی، اور کسی کی ظاہری وضع قطع اسے بدتمیزی یا ہراسانی کا نشانہ بنانے کا جواز فراہم نہیں کرتی۔ اگر معاشرہ واقعی حیا اور اخلاق کی حفاظت چاہتا ہے تو اسے اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ دوسرے انسان کو محض ظاہری کشش کی بنیاد پر جانچنا ایک محدود اور غیر منصفانہ طرزِ فکر ہے۔ ہر چہرے کے پیچھے ایک زندگی ہے، ہر شخصیت کے اپنے احساسات ہیں، اور ہر فرد کی اپنی نجی حدود ہیں۔ کسی کو دیکھتے ہوئے یہ شعور باقی رہے کہ سامنے والا بھی میری طرح عزت، تحفظ اور احترام کا حق رکھتا ہے، تو نگاہ کا رویہ خود بخود زیادہ مہذب ہونے لگتا ہے۔

حیا کے تصور کو سمجھنے میں ایک دوسری غلطی بھی سامنے آتی ہے۔ بعض لوگ حیا کو محض لباس تک محدود کر دیتے ہیں، جب کہ بعض دوسرے لوگ اسے ایک غیر ضروری سماجی پابندی تصور کرکے اس کی تمام اخلاقی معنویت کو رد کر دیتے ہیں۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں سے زیادہ متوازن ہے۔ حیا انسان کو اپنے رویے کی حدود پہچاننے، دوسروں کی عزت کا خیال رکھنے اور اپنی خواہشات کو اخلاقی اصولوں کے تابع رکھنے کا شعور دیتی ہے۔ یہ ایسی داخلی کیفیت ہے جو انسان کو صرف اس وقت نہیں روکتی جب کوئی اسے دیکھ رہا ہو، بلکہ اس وقت بھی اسے ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے جب وہ مکمل تنہائی میں ہو۔ اسی طرح حیا کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان اپنی جائز شخصیت، علمی صلاحیت، سماجی کردار یا ضروری سرگرمیوں سے دست بردار ہو جائے۔ حیا اور خود اعتمادی ایک دوسرے کی ضد نہیں؛ ایک باوقار انسان اپنی صلاحیتوں کا اظہار بھی کر سکتا ہے اور اپنے اخلاقی اصولوں کی حفاظت بھی۔

معاشرتی اصلاح کے لیے صرف فرد کو نصیحت کرنا کافی نہیں، بلکہ تربیت کے ان اداروں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے جو انسان کے رویے تشکیل دیتے ہیں۔ گھر بچے کی پہلی درس گاہ ہے، جہاں وہ بڑوں کے الفاظ سے زیادہ ان کے عمل سے سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں دوسروں کی ظاہری شکل پر مسلسل تبصرے کیے جائیں، خواتین کو محض لباس کے حوالے سے جانچا جائے یا کسی کی تضحیک کو تفریح سمجھا جائے تو بچے بھی انہی رویوں کو معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر والدین بچوں کو احترام، ذاتی حدود، ذمہ دارانہ گفتگو اور اپنی نگاہ پر قابو رکھنے کی اہمیت عملی طور پر سکھائیں تو ان کی شخصیت میں بہتر اخلاقی بنیادیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ انہیں محض نصابی کامیابی پر توجہ دینے کے بجائے طلبہ میں کردار، باہمی احترام، ڈیجیٹل ذمہ داری اور صحت مند سماجی تعلقات کے شعور کو فروغ دینا چاہیے۔ اخلاقی تعلیم اس وقت مؤثر ہوتی ہے جب وہ محض وعظ نہ رہے، بلکہ روزمرہ کے رویوں میں نمایاں ہو۔

اسی طرح مذہبی تعلیم کا مقصد بھی صرف احکام کو دہرا دینا نہیں، بلکہ ان کے پیچھے موجود اخلاقی حکمت کو سمجھانا ہونا چاہیے۔ جب ایک نوجوان کو یہ بتایا جائے کہ نگاہ کی حفاظت کیوں ضروری ہے، اس کا تعلق دل کی کیفیت، انسانی وقار، خواہشات کی تنظیم اور معاشرتی اعتماد سے کس طرح ہے، تو وہ اس حکم کو محض ایک پابندی کے بجائے اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ سمجھ سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حیا کو ایمان سے وابستہ فرمایا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آپ ﷺ کا ارشاد منقول ہے: «الحياء شعبة من الإيمان»، یعنی حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔ اس تعلیم کا اخلاقی مفہوم یہ ہے کہ انسان کے باطن میں موجود ایمان اور اس کے ظاہر ہونے والے رویوں کے درمیان تعلق ہے۔ جب انسان اپنے اعمال میں دوسروں کے احترام، اپنی ذمہ داری اور خدا کے سامنے جواب دہی کا شعور پیدا کرتا ہے تو اس کی حیا محض ایک جذباتی کیفیت نہیں رہتی، بلکہ اس کے کردار کا حصہ بن جاتی ہے۔

تاہم حیا کی تعلیم کو دوسروں کی نگرانی، تحقیر یا بے جا مداخلت کا ذریعہ بنا دینا بھی درست نہیں۔ کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پر مہذب نہیں ہو سکتا کہ اس کے افراد ایک دوسرے کے لباس، چال ڈھال اور نجی زندگی پر مسلسل نظر رکھیں۔ حقیقی اخلاقی شعور انسان کو پہلے اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ دوسروں کی اصلاح کی خواہش اگر خود احتسابی سے خالی ہو تو وہ اکثر سخت گیری، بدگمانی اور دوہرے معیار میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم دوسروں سے جس احترام کا مطالبہ کرتے ہیں، کیا وہی احترام اپنے عمل سے بھی پیش کرتے ہیں؟ کیا ہماری گفتگو کسی کی عزت محفوظ رکھتی ہے؟ کیا ہماری نگاہ دوسروں کے لیے تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہے یا بے اطمینانی کا؟ کیا ہم کسی کی غلطی دیکھ کر اصلاح کی راہ اختیار کرتے ہیں یا اسے تماشے کا موضوع بنا دیتے ہیں؟ یہ سوالات کسی دوسرے شخص کے خلاف فیصلہ سنانے کے بجائے اپنے باطن کی طرف رجوع کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

انسان کی شخصیت کی تعمیر میں نظر کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ انسان عموماً انہی چیزوں سے متاثر ہوتا ہے جنہیں وہ بار بار دیکھتا اور ذہن میں دہراتا ہے۔ کتابوں کا مطالعہ علم کے امکانات کھولتا ہے، فطرت کا مشاہدہ انسان کے اندر حیرت اور شکر گزاری پیدا کر سکتا ہے، دوسروں کی تکلیف کو دیکھنا ہمدردی کو بیدار کر سکتا ہے، اور کسی علمی یا فنی کام پر توجہ دینا تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے۔ اس کے برعکس مسلسل سطحی تقابل، دوسروں کی نجی زندگی میں غیر ضروری دلچسپی اور ظاہری کشش کو ہر چیز پر ترجیح دینا انسان کی توجہ کو محدود کر سکتا ہے۔ اس لیے نگاہ کی اصلاح کا ایک مثبت پہلو بھی ہے: انسان صرف یہ نہ سوچے کہ اسے کیا نہیں دیکھنا، بلکہ یہ بھی طے کرے کہ اسے اپنی آنکھوں کو کن بہتر مناظر اور مفید سرگرمیوں کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ علم، مطالعہ، فطرت، خدمتِ خلق، فنون اور بامقصد انسانی تعلقات ایسے راستے ہیں جو توجہ کو زیادہ تعمیری سمت دے سکتے ہیں۔

زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں بہت کچھ دیکھتی ہیں، لیکن ہر دیکھی جانے والی چیز انسان کو بہتر نہیں بناتی۔ اصل اہمیت اس بصیرت کی ہے جو انسان کو منظر کے پیچھے موجود حقیقت سمجھنے کے قابل بنائے۔ خوب صورتی کو دیکھنا ایک فطری احساس ہے، مگر خوب صورتی کی خاطر کسی کی حرمت کو نظر انداز کرنا اخلاقی کمزوری ہے۔ کسی کے وجود سے متاثر ہونا انسانی تجربے کا حصہ ہے، لیکن اس احساس کو دوسروں کی حدود پامال کرنے کی اجازت سمجھ لینا غلط ہے۔ نگاہ کا ضبط خواہشات کے وجود سے انکار نہیں، بلکہ خواہشات کو مناسب حدود میں رکھنے کی صلاحیت ہے۔ یہی صلاحیت انسان کو اپنے جذبات کا غلام بننے سے بچاتی اور اسے سوچ سمجھ کر عمل کرنے کا موقع دیتی ہے۔

بالآخر سوال یہ نہیں کہ ہماری آنکھیں کتنے مناظر دیکھتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان مناظر کے درمیان ہمارا کردار کس سمت بڑھ رہا ہے۔ کیا ہماری نگاہ میں احترام ہے؟ کیا ہمارے مشاہدے میں انصاف ہے؟ کیا ہماری دلچسپی کسی دوسرے انسان کی عزت کو محفوظ رکھتی ہے؟ اور کیا ہم اپنے اختیار کو اس ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتے ہیں جس کا تقاضا انسانیت اور ہمارا اخلاقی شعور کرتا ہے؟ یہ سوالات صرف کسی ایک فرد، ایک طبقے یا ایک جنس کے لیے نہیں، بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہیں جو اپنے کردار کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔

آنکھوں کی بے حیائی کا حقیقی علاج صرف پلکیں جھکا لینے میں نہیں، بلکہ دل میں وہ شعور پیدا کرنے میں ہے جو انسان کو دوسرے انسان کی حرمت کا احساس دلاتا ہے۔ جب نگاہ کے ساتھ احترام، خواہش کے ساتھ ضبط، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور علم کے ساتھ اخلاق شامل ہو جائیں تو دیکھنے کا عمل بھی انسانی تہذیب کا حصہ بن جاتا ہے۔ لیکن جب آنکھ سے حیا، دل سے احساس اور ذہن سے خود احتسابی رخصت ہونے لگے تو انسان دوسروں کو دیکھتے دیکھتے اپنی ہی حقیقت سے غافل ہو جاتا ہے۔ شاید ہمارے عہد کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ہم دنیا کو دیکھنے میں جتنی توانائی صرف کر رہے ہیں، کیا اتنی ہی سنجیدگی سے اپنے اندر بھی جھانک رہے ہیں؟ کیونکہ دوسروں کے چہروں کو پہچان لینا آسان ہے، مگر اپنی نگاہ کے اندر چھپی ہوئی بے احتیاطیوں کو پہچاننا ہی حقیقی اصلاح کا آغاز ہے۔

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (4)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Active Writer ★★★★★
M

Mohd Shuaib Raza

📍 Gorakhpur

📰 50 پوسٹ👁 1336 قارئین📊 26.7 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

شراب کے دینی و دنیوی نقصانات؛ ایک اصلاحی، علمی اور عملی جائزہ

نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی: اسباب و علاج

مسلمان، مسلمانوں سے دور کیوں؟ایک لمحۂ فکریہ!

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 101 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 81 ویوز