غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا
📅 06-06-2025
👁 27 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
محمد شعیب رضا
<p>وہ جاتے ہوئے آسرا دے گياملیں گے کبھی پھر دعا دے گياوہ پل بھر کا مہمان اور عمر بھرمجھے جاگنے کی سزا دے گیارُلایا مجھے ایک عرصے تلکوہ ملنے کا مجھ کو پتا دے گیاوہ ماضی کے لمحوں پر چھڑکا نمکمجھے درد دل کی دوا دے گیاوہ جس کو محبت سے دیکھا کِیےیہ مرزا کو جی بھر دغا دے گیا</p>
<p>از قلم :مرزا بشارت کریم</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Rising Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


