Hamari Aawaz

غزل: خود ہی خود کو ستاتی ہوں

شعر و شاعری ← غزل
📅 07-03-2021 👁 6 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہما اکبر آفرین badge

<p>خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی</p>
<p>کبھی خود کو بناتی ہوں کبھی پھر ٹوٹ جاتی ہوںمیرے دل کی جو حالت ہے وہ میں رب کو سناتی ہوں</p>
<p>وہ جو ہر شۓ میں شامل ہے وہ ہے ہر راز سے واقفمیں اس کو یاد کرتی ہوں تو ہر غم بھول جاتی ہوں</p>
<p>سمجھ میں کچھ نہیں آتا مرے دل کی یہ حالت ہےکہ اس کو یاد کر کے میں خود ہی خود کو ستاتی ہوں</p>
<p>کبھی تیری کہانی سے زمانے کو ہنساتی تھیمیں اب اپنی کہانی سے زمانے کو رلاتی ہوں</p>
<p>خدا کے واسطے تم یاد اپنی ساتھ لے جاناتمہاری یاد آتی ہے تو میں مرجھا سی جاتی ہوں</p>
<p>یہ لہریں تلملا کر توڑ دیتی ہیں ہمیشہ گلؔسمندر کے کناروں پر میں جب بھی گھر بناتی ہوں</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Senior Writer ★★★★★
ہ

ہما اکبر آفرین

📍 Faizabad

📰 187 پوسٹ👁 1346 قارئین📊 7.2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 101 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 81 ویوز