Hamari Aawaz

غزل: کوئی اتنا بھی منت اداس رہے

شعر و شاعری ← غزل
📅 02-11-2024 👁 10 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>اپنی حالت سے بد حواس رہےکوئی اتنا بھی مت اداس رہے</p>
<p>خوش ہوں لیکن مری تمنا ہےدرد بھی دل کے آس پاس رہے</p>
<p>فاصلوں کا تو میں نہیں قائلوہ مرا ہے تو میرے پاس رہے</p>
<p>اسکا تیور بدل بھی سکتا ہےہاں مگر لب پہ التماس رہے</p>
<p>میں نے تیرا ہی انتخاب کیایوں تو پیچھے مرے پچاس رہے</p>
<p>زہر جیسی کسیلی باتوں میںچاہتا یہ بھی ہے مٹھاس رہے</p>
<p>اسکی امید پر کھرا اترےجو بھی روشن کس کی آس رہے</p>
<p>نتیجۂ فکر: افروز روشن کچھوچھوی، امبیڈکر نگر اترپردیش</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21375 قارئین📊 4.4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز