غزل: مدتوں تک کوئی بہلول رہا ہے مجھ میں
📅 03-05-2022
👁 6 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>از قلم.. دلشاد دل سکندر پوری</p>
<p>زہر ہوں اور شہد گھول رہا ہے مجھ میںکون ہے تیری طرح بول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>اب محبت نہ کروں گا یہ قسم کھائ تھیبند دروازہ کوئی کھول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>خود کو اپنے ہی میں قدموں پہ جھکا لیتا ہوںایک ہی فن ہے جو انمول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>اپنی جنت میں بنا کر کے مٹا دیتا تھامدتوں تک کوئی بہلول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>میرے سینے میں یہ دل ہے کہ کوئی سوداگرمیرے احساس کا دھن تول رہا ہے مجھ میں</p>
<p>اب یہ پتھر مجھے کیا آنکھ دکھائیں گے دلپہلے آئینوں کا اک غول رہا ہے مجھ میں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


