غزل: یوں کدھر جاتے ہیں لوگ
<p>نتیجہ فکر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ</p>
<p>محو حیرت ہوں، ازل سے یوں کدھر جاتے ہیں لوگلوٹ کر کوئی نہ آیا، کس سفر جاتے ہیں لوگسامنے گلشن ہے یا پھیلا ہوا صحرا کوئیکچھ خبر اِن کو نہیں ہے، یوں کدھر جاتے ہیں لوگجب میں حاتم ہوں نہ گھر میرا ہے کعبہ کی طرحمیرے دروازے پہ آکر کیوں ٹہر جاتے ہیں لوگگویا میں میت ہوں، جس کے آخری دیدار کوآکے میرے پاس چپکے سے گذر جاتے ہیں لوگوہ بڑا عیار ساحر ہے کہ خوں آشام ہےکیوں امیرِ شہر کی آمد سے ڈر جاتے ہیں لوگہے زباں پہ تیری الااللہ، دل ہے بت کدہتیری محفل سے کہاں لے کر اثر جاتے ہیں لوگحُسن تیرا عارضی ہے، اصلیت کچھ اور ہےپھر بھی تیرے عشق میں کیوں جل کے مر جاتے ہیں لوگجانتے ہیں، کچھ بھی اب باقی نہیں ہے گاؤں میںکس بھروسے پر دوبارہ اپنے گھر جاتے ہیں لوگلوگوں میں اخلاص تھا جب، تھے رفیقیؔ تم کہاںاپنے مطلب کے لئے اب کچھ بھی کر جاتے ہیں لوگ</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


