Hamari Aawaz

غزل: یوں کدھر جاتے ہیں لوگ

شعر و شاعری ← غزل
📅 14-03-2022 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>نتیجہ فکر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ</p>
<p>محو حیرت ہوں، ازل سے یوں کدھر جاتے ہیں لوگلوٹ کر کوئی نہ آیا، کس سفر جاتے ہیں لوگسامنے گلشن ہے یا پھیلا ہوا صحرا کوئیکچھ خبر اِن کو نہیں ہے، یوں کدھر جاتے ہیں لوگجب میں حاتم ہوں نہ گھر میرا ہے کعبہ کی طرحمیرے دروازے پہ آکر کیوں ٹہر جاتے ہیں لوگگویا میں میت ہوں، جس کے آخری دیدار کوآکے میرے پاس چپکے سے گذر جاتے ہیں لوگوہ بڑا عیار ساحر ہے کہ خوں آشام ہےکیوں امیرِ شہر کی آمد سے ڈر جاتے ہیں لوگہے زباں پہ تیری الااللہ، دل ہے بت کدہتیری محفل سے کہاں لے کر اثر جاتے ہیں لوگحُسن تیرا عارضی ہے، اصلیت کچھ اور ہےپھر بھی تیرے عشق میں کیوں جل کے مر جاتے ہیں لوگجانتے ہیں، کچھ بھی اب باقی نہیں ہے گاؤں میںکس بھروسے پر دوبارہ اپنے گھر جاتے ہیں لوگلوگوں میں اخلاص تھا جب، تھے رفیقیؔ تم کہاںاپنے مطلب کے لئے اب کچھ بھی کر جاتے ہیں لوگ</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 20598 قارئین📊 4.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 101 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 81 ویوز