Hamari Aawaz

غزل: یہ نہ پوچھو وہ کون تھا کیا تھا

شعر و شاعری ← غزل
📅 05-03-2022 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>نتیجہ فکر: فیضان علی فیضان</p>
<p>میں نے کل رات جس کو دیکھا تھایہ نہ پوچھو وہ کون تھا کیا تھا</p>
<p>میں ہی پہچان اسے نہیں پایاوہ میرے سامنے سے گزرا تھا</p>
<p>جس پہ میری نگاہ ٹھہری تھیساری محفل میں وہ اکیلا تھا</p>
<p>اس کو پروا نہ تھی کسی کی مگرمیرے سینے میں خوف دنیا تھا</p>
<p>شمع محفل کو دیکھ کر روشنقطرہ قطرہ کوئی پگھلتا تھا</p>
<p>وہ بھی کیا دن تھے زندگانی کےدل میں میرے بھی کوئی رہتا تھا</p>
<p>میں فیضان تھا دوسروں کو لئےمیرا اپنا وجود ہی کیا تھا</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21617 قارئین📊 4.5 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز