غزل: مظلوم کا دکھ درد بھی دیکھا نہیں جاتا
📅 01-10-2021
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>از قلم: محمد تحسین رضاقادریمدرس دارالعلوم ضیائے مصطفیٰ کانپور٩٨٣٨٠٩٩٧٨٦</p>
<p>گھر میں کبھی آرام سے بیٹھا نہیں جاتامظلوم کا دکھ درد بھی دیکھا نہیں جاتا</p>
<p>شعروں میں میرے ذکر رہا یار ہر دمغزلوں سے میری آپ کا چر چا نہیں جاتا</p>
<p>دیکھا تھا مجھے تم نے مگر بات نہیں کیدل ایسے کسی کا کبھی توڑا نہیں جاتا</p>
<p>ائے کاش میرے پاس کبھی آگئے ہوتےیہ درد جدائی میرا بڑھتا نہیں جاتا ہے</p>
<p>طوفان اگر غم کے میرے پاس نہ آتےکشتی سے کبھی دور کنارا نہیں جاتا</p>
<p>یہ زندگی اور موت نظام ایسا بنا ہےاس نے ہے بنایا اسے بدلا نہیں جاتا</p>
<p>محبوب میرا روٹھا ہواہے میں کروں کیاتحسین میرے دل سے یہ صدمہ نہیں جاتا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


