غزل: احباب ہمارے سارے
📅 05-12-2021
👁 3 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال: ذکی طارق بارہ بنکویسعادت گنج،بارہ بنکی،یوپی</p>
<p>ہم سے روٹھے سے ہیں احباب ہمارے سارےالٹے بہنے لگے اب پیار کے دھارے سارے</p>
<p>مشتری زہرہ عطارد سے ملے نام جنھیںآسماں پر وہ چمکتے ہیں ستارے سارے</p>
<p>درد کے طور کبھی آہ کبھی اشکوں کے طورمیں نے اے عشق ترے قرض اتارے سارے</p>
<p>کون سی چُوک ہوئی اس نے ہے کیا داؤں چلاکس طرح جیتے ہوئے معرکے ہارے سارے</p>
<p>اب کسی شخص کے چہرے پہ نہیں شادابیکیا مری طرح ہیں حالات کے مارے سارے</p>
<p>ہونٹ ساکت رہے اور ہوگئے عہد و پیماںکتنے پُر معنٰی ہیں نظروں کے اشارے سارے</p>
<p>ہوگئی درد کا عنوان کتابِ ہستیاس ہی موضوع سے پر صفحے ہیں سارے سارے</p>
<p>ہائے ری مفلسی پھر بھی نہ وہ پہچانے "ذکی"میں نے جتنے بھی تعارف تھے گزارے سارے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


