Hamari Aawaz

غزل: یہاں جو سوچ ہی کچھ طالبانی رکھتے ہیں

شعر و شاعری ← غزل
📅 17-11-2021 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>اسانغنی مشتاق رفیقیؔوانم باڑی، تمل ناڈو</p>
<p>یہاں جو سوچ ہی کچھ طالبانی رکھتے ہیںوہ اپنی نسلوں سے کب خوش گمانی رکھتے ہیںاُنہیں تو صاف بھی گدلا دکھائی دیتا ہےجو اپنی آنکھوں میں نفرت کا پانی رکھتے ہیںزمیں پہ جینے کا اُن کو ہنر نہیں آتاہے ناز جن کو ہنر آسمانی رکھتے ہیںکبھی دلیل سے ہوتے نہیں ہیں وہ قائلجو اپنے لہجوں میں شعلہ بیانی رکھتے ہیںہمارے دم سے ہیں راہِ وفا میں ہنگامےہم اپنے خوں میں غضب کی روانی رکھتے ہیںبُڑھاپا اُ ن کا یقینا سکوں سے گزرے گاجو کارِ خیر میں اپنی جوانی رکھتے ہیںچھپائے رکھتے ہیں دل میں تمام رنج و المہم اپنے چہرے پہ بس شادمانی رکھتے ہیںوطن پرست رفیقیؔ وہ ہو نہیں سکتےخود اپنے لوگوں سے جو بد گمانی رکھتے ہیں</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 20656 قارئین📊 4.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 101 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 81 ویوز