Hamari Aawaz

غزل: ہے ردیف اور قافیہ ہی نہیں

شعر و شاعری ← غزل
📅 05-04-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>خیال آرائی: اشتیاق احمد شوق، ممبئی</p>
<p>جام الفت کا جو پیا ہی نہیںزندگی اس نے پھر جیا ہی نہیں</p>
<p>لاکھ تکلیف جھیلتا میں رہانام تیرا مگر لیا ہی نہیں</p>
<p>جلوۂ یار تھا میسر، پرتیرگی میں کوئی، دِیا ہی نہیں</p>
<p>نقشِ الفت مٹا دیا دل سےپیار کی دل میں اب ضیا ہی نہیں</p>
<p>اس زمیں کے سفر پہ نکلا ہوں"ہے ردیف اور قافیہ ہی نہیں"</p>
<p>یہ حقیقت نہیں فسانہ ہےشوق نے ایسا کچھ کیا ہی نہیں</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21414 قارئین📊 4.4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز