Hamari Aawaz

غزل: رُت بسنتی آگئی

شعر و شاعری ← غزل
📅 21-02-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>از: نیاز جے راج پوری علیگاعظم گڑھ، یو۔پی۔</p>
<p>رُت بسنتی آ گئیآ کے گُل بُوٹوں کے گہنے دھرتی کو پہنا گئیرُت بسنتی آ گئیتِتلیاں ہیں اُڑتی پَر سَت رنگی پَھیلائے ہُوئےکلیوں پَر منڈرا رہے ہیں بَھنورے للچائے ہُوےجاگتی آنکھوں میں سپنے بُننے کی رُت آ گئیرُت بسنتی آ گئیبَور کی خوشبو سے مہکے مہکے ہیں باغ آموں کےاوڑھ لی پِیلی چُنرِیا سب کھیتوں نے سرسوں کےکِھلنے کو بیکل کلی بھی اوڑھنی سَرکا گئیرُت بسنتی آ گئیدِل کو آنکھوں میں دھڑکتے رہنے کا ڈھنگ آ گیاخامشی کو بھی بہت کچھ کہنے کا ڈھنگ آ گیایاد پردیسی سجن کی سجنی کو تڑپا گئیرُت بسنتی آ گئیدُور اب اپنے کناروں سے ہے مَدماتی ندیسِمٹی اپنے آپ میں اِٹھلاتی بَل کھاتی ندیبات اُبھرنے ڈوبنے والی سمجھ میں آ گئیرُت بسنتی آ گئیچارپائی آ گئی دالانوں سے انگنائی میںرعب اب باقی نہیں ہے جاڑے کی ٹھکُرائی میںالگنی پر بَیٹھ کر گوریّا یہ سمجھا گئیرُت بسنتی آ گئیرنگ بدلا انگ انگ کا چال بہکی بہکی ہےگدرایا گدرایا یوّون کایا مہکی مہکی ہےلہرائیں تَن مَن ، پھاگُن کی اِن پہ مستی چھا گئیرُت بسنتی آ گئیاے نیازؔ آنکھوں میں ہے تصویر جیراجپور کیفخرِ ہندوستان کی اور اعظم گڑھ کے نور کییادیں میرے گاؤں کی سنگ اپنے لیکر آ گئیرُت بسنتی آ گئی</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21852 قارئین📊 4.5 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

غزل: وہ جاتے ہوئے آسرا دے گيا

غزل: کیسے کٹے گی عمر میری مفلسی کے ساتھ

غزل: میری حالت پہ آہ کون کرے

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز