نعت رسول: لب پہ بس صلِّ علیٰ، صلِّ علیٰ کافی ہے
📅 19-01-2021
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>نتیجۂ فکر: محمد شکیل قادری بلرام پوری</p>
<p>قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافیلب پہ بس صلِّ علیٰ، صلِّ علیٰ کافی ہے</p>
<p>مالکِ کون و مکاں قاسمِ نعمت ہیں جوہم فقیروں کے لیے ان کی عَطا کافی ہے</p>
<p>آتے ہی ساری بلائیں مری ٹل جاتی ہیںاِن بلاؤں کے لیے ماں کی دُعا کافی ہے</p>
<p>حدت حشر کا کچھ خوف نہیں ہے مجھ کومیرے چھپنے کو شہِ دیں کی ردا کافی ہے</p>
<p>گلشنِ فکر کو مہکانے کی خاطر میرےشہ کے دربار سے آئے جو ہَوا کافی ہے</p>
<p>کیسے کہہ دوں کہ نہیں میراجہاں میں کوئیمیری خاطر تو وہ محبوبِ خُدا کافی ہے</p>
<p>کاش کہہ دیں وہ سرِ حشر کہ میرا ہے شکیلؔمیری بخشش کے لیے ان کا کہا کافی ہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


