لٹتے ہوئے گھر دیکھ رہا ہوں
<p>قوم و ملت کے حالات پر بے چین دل کی پکار۔۔۔</p>
<p>از: سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی، مسقط عمان</p>
<p>حسرت سے میں لُٹتے ہوئے گھر دیکھ رہا ہوںرنجیدہ و بیتاب نظر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>گَھٹتی ہوئ پُر امن زمینوں سے ہوں بیچینبڑھتی ہوئی نفرت کے شرر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>دیکھے نہیں جاتے ہیں " تِریپورہ" کے منظرآنسو لیے اپنوں کی خبر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>ملت کے ستاروں میں ہے جبتک یہ جدائیتب تک میں اجالوں کا ضرر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>کس وا سطے ناکام ہوئے اہلِ قیادتکردار کے سب زیر و زبر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>پَر تول رہے ہیں جو کھڑے پُشتِ انا پرٹوٹی ہوئی میں سب کی کمر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>قوت جنھیں حاصل ہے وہ افراد ہیں خاموشملت کے زوالوں کا سفر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>جو آج کسی دوسرے مقتول پہ چُپ ہیںکل ان کے بھی کٹتے ہوئے سر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>محفوظ نہیں منبر و محراب و مدارساُن پر بھی ہے طوفاں کی نظر ، دیکھ رہا ہوں</p>
<p>بٗھولے ہیں مسلمان ، سبق بدر و احد کااِس واسطے یہ خوف یہ ڈر دیکھ رہا ہوں</p>
<p>اشکوں کی ہر اک بوند ہے نصرت کی طلبگارروتے ہوئے اللہ کا در دیکھ رہا ہوں</p>
<p>سب کام تو ناکامی کے ہیں پھر بھی فریدیامید لیے راہِ سحر دیکھ رہا ہوں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


