Hamari Aawaz

نظم: اپنا بھارت ہے یہ

شعر و شاعری ← نظم
📅 15-08-2025 👁 8 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>سنگ میلوں نے دامن چھُڑا ہی لیااپنی ہستی کو خود سے ہٹا ہی لیامنزلوں کے مرے سب نشاں کھو گئےسمت و ساحل کا اب تو بتا بھی نہیںمیری منزل کا اب تو نشاں بھی نہیںدل میں منزل کی حسرت ہے زندہ ابھیآرزو منزلوں کی جواں ہے ابھیجو تمنا ہے برسوں سے باقی رہیسنگ میلوں نے آنکھیں چرا لی مگرخواب آنکھوں سے میرے چرا نا سکےکشمکش میں مری زندگی رہ گئیاور منزل کی وہ تشنگی رہ گئیدل میں الجھن لیے ایک امید پرسمت منزل کا مجھ کو پتا اب ملےمیری کھوئی ہوئی سی وفا اب ملےسب کو ملتا ہے مجھکو خدا اب ملےچار راہوں کے اب بھی اسی موڑ پرحسرتوں کے سبھی حوصلے رہ گئےمنزلیں کھو گئی راستے رہ گئےمے کدہ ہے وہیں سے کسی راہ پراور شوالہ کو جاتی ہی اک راہ بھیراہ مڑتی ہے پھر مسجدیں بھی تو ہیںایک آتش کدہ چرچ بھی راہ پرگُر دوارے کی اونچی عمارت بھی ہےسارے راہوں میں لوگوں کی اک بھیڑ ہےساری راہوں میں منزل کی حسرت لیےلوگ اپنے جنوں میں چلے جاتے ہیںکوئی اس سمت میں کوئی اس سمت میںدل کے دامن میں اپنی محبت لیےاپنے ماتھے پہ اپنی عقیدت لیےجو بھی ڈھونڈا ہے پایا ہے معبود کوہم نے مانا کہ راہیں جدا ہیں مگرایک منزل یہاں ایک منزل یہاںجس نے ڈھونڈا جہاں راستہ مل گیااک خدا مل گیا اک خدا مل گیاسارے رنگوں کے غنچے ہیں گلیاں بھی ہیںپھول گلشن میں صدیوں سے آباد ہیںاس جہاں میں انوکھا یہ گلدان ہےایک جہتی ہی اپنی تو پہچان ہےسارے عالم میں اپنی یہی شان ہےرشک سے دیکھتی ہے یہ دنیا جسےاپنا بھارت ہے یہ اپنا بھارت ہے یہ</p>
<p>نتیجہ فکر: شہاب حمزہ8340249807</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 19774 قارئین📊 4.1 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

کب اخوت کے گلشن کھلیں گے

خدا کی مہربانی

"کُن فَیَکُون"

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 136 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 102 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 96 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 80 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 80 ویوز