نعت رسول: کس کے لب پر مصطفیٰ کی مدح کے نغمے نہیں
<p>نتیجہ فکر: سید خادم رسول عینی</p>
<p>صرف اک طبقے کے ہوں جو ، وہ ، نبی ایسے نہیںامت شہ جو نہ ہوں ، ایسے کہیں بندے نہیں</p>
<p>وصف ایسا کس میں ہے اپنے پیمبر کے سوا"مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں "</p>
<p>اس میں کیسے چمکیں ایماں کی شعاعیں بولیےجس کے دل میں حب شاہ دین کے شیشے نہیں</p>
<p>سر کے اوپر گر رہے دست کرم سرکار کاہے یہ نا ممکن کہ پتھر ظلم کا سرکے نہیں</p>
<p>وہ پرندہ ہو کہ ہو گل ، جن ہو یا قدسی ، بشرکس کے لب پر مصطفیٰ کی مدح کے نغمے نہیں</p>
<p>سوئے شہر یاد شاہ طیبہ جو ہر دم چلےخوب چمکے وہ نصیبہ اور کبھی سوئے نہیں</p>
<p>نعتیہ اشعار کی تنویر سے شرمائے چاندکون کہتا ہے کہ میرے پاس سرمائے نہیں</p>
<p>جس کنویں میں ڈال دیں اپنا لعاب پاک وہاس کا شیریں پن کبھی بھی دہر میں بگڑے نہیں</p>
<p>جس میں کلیاں الفت شاہ مدینہ کی کھلیںکوئی پھول ایسے چمن کا "عینی" مرجھائے نہیں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


