لذت عیش میں عقبی کی سزا بھول گیا
<p>نتیجہ فکر: محمد کہف الوری مصباحینائب صدر: لمبنی پردیس، راشٹریہ علما کونسل، نیپالنگران اعلی: فروغ اردو زبان تعلیمی شاخ، ڈڈوا گاؤں پالکا، ضلع بانکے</p>
<p>حسن دنیا میں شریعت کی ادا بھول گیاشاخ تھا جس کی اسی سے تو وفا بھول گیامست دولت میں ہے عقبی کو بھول بیٹھا ہےعشق دولت سے کیا ذکر خدا بھول گیاہر اک عنوان پہ چلتی ہے زباں خوب تریہائے افسوس کہ تو حق کی سدا بھول گیابے حیائی کو تو نے آج حیا سمجھا ہےحیف صد حیف کہ تو طرز حیا بھول گیافکر امروز نہیں بھول گیا فردا کوکیسی غفلت ہے تری رسم بقا بھول گیاتیری نظروں میں بسا رنگ شعار اغیارغیر کے پیچھے چلا اپنا پتہ بھول گیاتیرے کردار پہ شرمائیں یہود و مشرکجرم پہ جرم کیا نام خطا بھول گیاراستے خوب گناہوں کے تجھے ہیں ازبرنیک راہوں سے ہٹا راہ ہدی بھول گیااپنے اعمال سے اسلام کا باغی تو بنالذت عیش میں عقبی کی سزا بھول گیاجنتی بننے کا دل میں ہے ترے شوق مگرپیار شیطاں سے کیا حکم خدا بھول گیابے محل جوش بھی جذبہ بھی تجھے آتا ہےدین کے واسطے تو ہونا خفا بھول گیااہل دنیا کی رضا کے لیے در در بھٹکاخلق کے ڈر سے تو خالق کی رضا بھول گیا؟قدرداں اپنا یہاں کوئی نہیں ہے ازہرورنہ کس بات پہ وہ میری ندا بھول گیا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


