ملے مجھ کو اگر گھر ایک ہی چھوٹا مدینے میں
<p>نتیجہ فکر: فرید عالم اشرفی فریدی</p>
<p>ملے مجھ کو اگر گھر ایک ہی چھوٹا مدینے میںکھلے گا دل کا غنچہ بالیقیں میرا مدینے میں</p>
<p>جسے اذنِ حضوری مل گئ طیبہ نگر کی وہسنانے حال دل اپنا چلا شیدا مدینے میں</p>
<p>مقدر جاگ جاۓگا مرا واپس نہ آؤں گافقیرِ قادری کا ہو اگر جانا مدینے میں</p>
<p>نظارہ اپنی انکھوں سے کروں میں آپ کے در کابلالیں اپنے در پر اے مرے آقا مدینے میں</p>
<p>دلِ ناداں چلو جب شہر آقا میں زیارت کوادب ملحوظ رکھ کر پھر چلا کرنا مدینے میں</p>
<p>زیارت میں کروں دربار آقا خوب برتر سےبدن سے روح ہو اس دم جداگانہ مدینے میں</p>
<p>درودِ پاک کا نغمہ سجایا ہوں جو ہونٹوں پرسنانا تو صبا جا کر میرا نغمہ مدینے میں</p>
<p>در و دیوار کو چوموں نہ کیوں میں اپنے ہونٹوں سےبنا جو دلنشیں ہے گنبدِ خضریٰ مدینے میں</p>
<p>فریدی زندگی بھر ناز کر تو اپنی قسمت پرملا ہے نعت پڑھنے کا تجھے یارا مدینے میں</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


