نعت رسول: آشفتہ حال بندوں کی للہ لے خبر
<p>نتیجہ فکر: محمّد اشرفؔ رضا قادریمدیر اعلیٰ سہ ماہی امین شریعت</p>
<p>آشفتہ حال بندوں کی للہ لے خبراورنگِ دو جہاں کے شہنشاہ لے خبر</p>
<p>ظلم و جفا کے تیر سے ہم ہیں لہو لہاناپنے غلاموں کی شہِ ذی جاہ لے خبر</p>
<p>رنجور ہوں، میں سنگِ ملامت سے چور ہوںنازل ہوئی ہے آفتِ جاں کاہ لے خبر</p>
<p>دامن پسارے، اشک کا تحفہ لیے ہوئےدہلیز پر کھڑا ہوں مرے شاہ لے خبر</p>
<p>کس سے کروں سوال، کہاں جاؤں خضرِ راہ!کھائی ہے پیچھے، سامنے ہے چاہ لے خبر</p>
<p>دشوار زندگی ہے، قیامت کا ہے سماںامت کے حالِ زار سے آگاہ لے خبر</p>
<p>کب تک میں یوں ہی آنسو بہاتا رہوں شہاحد ہو گئی ہے صبر کی اب، آہ لے خبر</p>
<p>کالی گھٹا ہے، برق ہے، باراں ہے، سخت راتمیں تک رہا ہوں کب سے تری راہ لے خبر</p>
<p>چاروں طرف سے رنج و الم کا ہجوم ہےاشرفؔ ہے تیرا بندۂ درگاہ لے خبر</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


