عظمت قلم
<p>موج فکر: خلیل احمد فیضانی</p>
<p>بتا,قلم!تو کتنا عظیم ہےہر جا ہے تیرا چرچاہر پل ہیں تیری یادیںخلوت کا ساتھی ہے توجلوت میں وقار ہے تواپنے شیدائیوں کا ہے تُو آسرااپنے قدردانوں کا محافظ.بتا,قلم! تو کتنا عظیم ہے…تیرا محب کامران ہےدوستی تیری پرخلوصبرستا ہے فیضان تیرا جھماجھمتیری سنگت دیتی ہے ایک نیا دم خمبتا,قلم !تو کتنا عظیم ہے..تُو ہے تو سب کچھ ہے..تُو نہیں تو کچھ نہیں…تجھ سے لگائی جس نے یاری...عطا کی تو نے اسے باغ بہاری….. بتا,قلم! تو کتنا عظیم ہےتیری ہر ادا پر میں فدا...تیرے ہر کاج پر ہے ہمیں ناز...تجھے اپناکے سدھری نسلیں…تیری بدولت کھڑی ہوئیں فرسودہ قومیںبتا,قلم!تو کتنا عظیم ہے…تیری آن بان ہر جگہ مسلم ہے…جنہوں نے تجھے صحیح استعمال کیا راج کرگئے...تجھے بے جا استعمال کرنے والے تاراج ہوگئے...بتا,قلم!تو کتنا عظیم ہے.صحاح ستہ و ظاہر الروایہ کا کاتب ہے تُواپنے عاشق پر عاشق ہے تُورکھی جس نے عقیدت تجھ سےبڑے نرالے انداز سے نوازاہے اسے تُوبتا,قلم!تو کتنا عظیم ہےمرغ زار ہو یا ریگزار ہر جا تیرا ایک نام ہےرملستان کو بنادے چمنستان یہ تیری شان ہےبڑے بڑوں کو سرینڈر تو کردیتا ہےجو کسی سے نہیں دبتے تُو ان کا پنجہ استبداد موڑ دیتا ہےہر ایک تجھے اپنانا چاہتا ہےہر فرد تجھ سے دوستی کرنا چاہتا ہےکیا عجب شان ہے تیری اے قلمبتا,قلم!تو کتنا عظیم ہےتو کتنا عظیم ہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


