نعت رسول: یاد آتا ہے بہت شہر مدینہ ہم کو
<p>نتیجہ فکر: محمد نثار نظامی مہراج گنج</p>
<p>اے شہنشاہ دوعالم ،شہ بطحا ہم کوآل اطہار کا دے دیجیے صدقہ ہم کو</p>
<p>اپنے دربار میں آنے کی اجازت دے دیںیاد آتا ہے بہت شہر مدینہ ہم کو</p>
<p>کچھ ہو خامی تو معافی کے طلبگار ہیں ہمنعت لکھنے کا نہیں آتا سلیقہ ہم کو</p>
<p>اس سہارے پہ ہو قربان ہماری نسلیںجس سہارے نے جہنم سے بچایا ہم کو</p>
<p>حشر کے روز یہ آقا سے کہے گی امتنار دوزخ سے بچالیجے خدارا ہم کو</p>
<p>اپنی آنکھوں سے لگائیں گے بصارت کے لیےکاش مل جائے جو پیزار کا ذرہ ہم کو</p>
<p>کشت افکار میں ہریالی نہیں ہے کب سےنعت حسان کا دے دیجیے صدقہ ہم کو</p>
<p>ان کی ناموس پہ ہیں کٹنے کو ہردم تیارعشق سرکار میں ہے موت گوارا ہم کو</p>
<p>کیا بگاڑیں گے ہمارا یہ یہودی کتےوجہ تخلیق جہاں کا ہے سہارا ہم کو</p>
<p>فرقت طیبہ میں جینا ہوا دوبھر آقااب دکھا دیجیے وہ گنبد خضری ہم کو</p>
<p>طائر فکر کی پرواز بھی اونچی ہوجاےکاش مل جائے جو لفظوں کا قبیلہ ہم کو</p>
<p>ازہری قبلہ پہ قرباں نہ نظامی کیوں ہوجام الفت کا ہے بھر بھر کے پلایا ہم کو</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


