نعت رسول: طائرِ مدینہ تو! لے کے دردِ دل جاتا
<p>مرشدی تاج الشریعہ علیہ الرحمہ کے ایک مصرع پر طبع آزمائی کی کوشش</p>
<p>نتیجۂ فکر: اشتیاق احمد شوق، ممبئی</p>
<p>" کاش گنبد خضرا دیکھنے کو مل جاتا"آنکھیں زیرِپا ہوتیں،چشم بَن کےدل جاتا</p>
<p>فرقتِ مدینہ نے چاک کردیا دل کوگر نظر وہ فرمادیں، چاک دل کا سِل جاتا</p>
<p>سجدہ ریز ہوجاتا عشق ان کےروضے پراور خرد جبیں روکے سمتِ معتدل جاتا</p>
<p>بارگاہِ آقا میں حالِ دل بیاں کرنےطائرِ مدینہ تو!لے کے دردِ دل جاتا</p>
<p>شانِ شاہِ بطحا میں خامۂ عقیدت سےکلمۂ ثنا میرا، نعت بن کے کھِل جاتا</p>
<p>بےعمل تھا،محشر میں آس تھی شفاعت کیلاج رکھ لی آقا نے ،کیسے منفعل جاتا</p>
<p>بھیک ان کی ملتی ہے ہر گھڑی زمانے کوشوق بےنوا کیسے در سےمضمحل جاتا</p>
<p>مدّعا فقط اتنا شوق! لے کے جائے گاجب نظر ہو روضے پر،جان سے یہ دل جاتا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


