مدح سید الانبیاء و المرسلینﷺ
<p>از : عبدالمبین حاتم فیضی</p>
<p>نور ِ مطلق نـے اتارا نور ِ وحدت کا چراغبُجھ کے یکدم رہ گیا کفر و ضلالت کا چراغ</p>
<p>ظلم و اِستِبداد کے پُر زُور طوفانوں کے بیچتھا درخشاں، ہے، رہے گا، اک عزیمت کا چراغ</p>
<p>ایک پل مِیں ، مَیں زمیں سے آسماں بن جاؤنگاخواب میں گرمیرے،چمکےان کی رؤیت کاچراغ</p>
<p>صرف ذاتِ رب کو ہے معلوم یہ سِـرِّ نہاںکس بَلندی پر ہے روشن ان کی رفعت کا چراغ</p>
<p>ہے محافظ خود ہی اس کا مالک کون و مکاںبجھ نہیں سکتا کبھی نعتِ رسالت کا چراغ</p>
<p>میں بھی شہرِ نور کا زائر بنونگا ایک دنجگمـگائے گا کبھی تو میری قسمت کا چراغ</p>
<p>موت کو بھی زندگی مل جائےگی اس دم مریگـر بُجھے دربارِ آقا میں معیشت کا چراغ</p>
<p>روغنِ لطف و کرم سرکار ! اس میں ڈال دیںتاکہ ہوجائے منور میری قسمت کا چراغ</p>
<p>دائمی توقیر و عزت کے اگر خواہاں ہیں آپدل میں کرلیجے فروزاں ان کی سیرت کا چراغ</p>
<p>کب تلک یوں ظلمتِ تنہائی میں حاتم رہےکیجئے سرکار ! اب روشن رِفاقت کا چراغ</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


