منقبت: خواجۂ ہندالولی کو سنیوں کی جان لکھ
<p>نتیجۂ فکر: محمد جیش خان نوری امجدی مہراجگنج</p>
<p>شاہ بطحا شاہ خوباں کا انھیں احسان لکھحضرت ابن علی کو دہر کا سلطان لکھ</p>
<p>ہیں عطائے مصطفی اور دین پر قربان لکھخواجۂ ہندالولی کو سنیوں کی جان لکھ</p>
<p>آگرہ کے دل کی دھڑکن جانِ راجستھان لکھعاشق خواجہ انہیں تو فخرِ ہندوستان لکھ</p>
<p>ان کی آمد سے ہوا روشن یہاں دیں کا چراغہند پہ خواجہ پیا کا ہے حسیں فیضان لکھ</p>
<p>جب وہابی تجھ سے پوچھے کیا عقیدہ ہے ترابول اس سے عاشق چشتی ہوں یہ پہچان لکھ</p>
<p>ان کے در سے ہو رہے ہیں آج بھی سب فیضیاباس لئے جودو سخا کی شان لکھ ہاں شان لکھ</p>
<p>جس کے دل میں ہے نہیں الفت معین الدین کیاس کے حق میں بندہء شیطان لکھ شیطان لکھ</p>
<p>منقبت کے ہوگئے اشعار اے نوری رقمیہ ترا کچھ بھی نہیں خواجہ کا ہے فیضان لکھ</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

منقبت شریف عطائے رسول سلطان الہند خواجۂ خواجگان فخر ہندوستان حضور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

منقبت سیدنا خواجہ غریب نواز علیہ الرحمة والرضوان



