نظم: حیا بکتی ہے سڑکوں پر
<p>از: عمیر محمد خانریسرچ سکالر9970306300</p>
<p>حیا بکتی ہےسڑکوں پرحیا لٹتی ہے سڑکوں پروہ بازاروں میں محفل میںجوپھرتی ہےحجاب اندرحیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔۔؟!!جو بستی تھی مکینوں میںدریچوں سے جو ڈرتی تھیدرودیوار سے بھی جوسہمتی تھی لرزتی تھیحیا آخر کہاں پر ہے…سفر میں ہوں یا گلشن میںاکیلی جونہ چلتی تھیجو سہمی سہمی رہتی تھینہ اونچا کہتی سنتی تھیحیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔جو اپنے باپ کی عزتتھی اپنی ماں کے جو شفقتجو اپنے بھائی کی غیرتتھی آنکھوں کی وہ جو ٹھنڈکحیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔۔جو اپنی سہلیوں سے بھینہ دل کی بات کہتی تھیجو اپنی آرزو کو بھیدفن سینے میں کرتی تھیحیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔نگاہیں تھی حجاب ا سکیجو گھر میں بھی نہ اٹھتی تھیںجو دھیما دھیما لہجہ تھاکہاں کھویا ۔۔۔۔۔کہاں آخر ۔۔۔؟حیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔یہ بے باکی یہ بے تابیہنوز اب بھی ہےیہ باقیجلسوں میں مجالس میںنہیں ہے خیر اب ساقیحیاآخر کہاں پر ہے۔۔۔جو اندازے بدلتے ہیںتو پیمانے بدلتے ہیںبدل سکتے نہیں جو خودوہ آئینے بدلتے ہیں..!!حیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔بھلا کیسے مسلماں ہیںجو قرآن کو بدلتے ہیں؟زمانے میں وہ چلنے کوہزاروں رنگ بدلتے ہیں..!!حیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔تمہاری آبرو کو ابکہاں لاتےہوسڑکوں پرتمہارے خون کی غیرتعیاں کرتے ہوپر دوں پر !!حیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔بدلتے ہیں یہاں تیوریہ ابلیسی نظام اکثرجواچھائی کا رنگ لےکربدی کو عام کرتے ہیںحیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔اثر باقی نہ جاں باقینہ جینے کی امنگ باقینہ مرنے کی تمنا ہےبدلنے کی نہ جنگ باقی۔۔!!حیا آخر کہاں پر ہے۔۔۔جو سینے مرد ہ ہوتے ہیںجو بازو دم سے ہیں خالیوہ قومیں جی نہیں سکتیںنہ ہو جن میں حیا باقی ۔۔۔!!!</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


