منقبت: بہہ رہا ہے فیضِ خواجہ کا بھی دریا آج تک
<p>نتیجۂ فکر: محمد جیش خان نوری امجدیمہراج گنج یو۔پی۔</p>
<p>بہہ رہا ہے فیضِ خواجہ کا بھی دریا آج تکلےرہا ہے ہرکوئی بھر بھر کے کاسہ آج تک</p>
<p>اپنے ہوں یاغیر ہوں سب مل کے کہتے ہیں یہیدے رہے ہیں سب کو خواجہ ہی سہارا آج تک</p>
<p>منبع جودو سخا ہیں حضرت خواجہ پیادیتے ہیں اجمیر سے رحمت کا باڑا آج تک</p>
<p>ہوگئی ہے جس کو نسبت سنجری سرکار سےکھارہا ہے وہ جہاں میں ان کا صدقہ آج تک</p>
<p>فاطمہ زہرا کے پیارے اور علی کے لاڈلےدے رہے ہیں ہند میں سب کو دلاسا آج تک</p>
<p>ایک پیالے میں انا ساگر یہ کیسے آگیاما ورائے عقل ہے ان کا کرشمہ آج تک</p>
<p>جس نے دیکھا ہے در خواجہ پیا کہنے لگاکس قدر پرنور ہے خواجہ کا روضہ آج تک</p>
<p>ہے دعا دل سے یہی نوری کبھی دیکھے خدااس نے تو دیکھا نہیں خواجہ کا روضہ آج تک</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

منقبت شریف عطائے رسول سلطان الہند خواجۂ خواجگان فخر ہندوستان حضور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

منقبت سیدنا خواجہ غریب نواز علیہ الرحمة والرضوان



