Hamari Aawaz

غزل: ہجر میں جینا ہے دسمبر میں

شعر و شاعری
📅 12-12-2020 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان</p>
<p>کچھ نہیں لینا ہے دسمبر میںکچھ نہیں کہنا ہے دسمبر میں</p>
<p>سرد راتیں یاد ہیں سب سردی کییار نے ملنا ہے دسمبر میں</p>
<p>دینی بیوی نے نہیں ہے اب لسیچائے ہی پینا ہے دسمبر میں</p>
<p>دن خوشی کے سب گئے ہیں اب چلےکرب بس سہنا ہے دسمبر میں</p>
<p>سب وہ قرضے دے دیئے ہیں دوستوکچھ ابھی دینا ہے دسمبر میں</p>
<p>لاش زندہ بن چکا ہوں پہلے سےخون بس بہنا ہے دسمبر میں</p>
<p>چھوڑ کے فیضان جائے گا چلاہجر میں جینا ہے دسمبر میں</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 20583 قارئین📊 4.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

یوم خواتین پر کچھ اشعار

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 101 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 81 ویوز