مجاہد ملت اور اشاعت مسلک اعلیٰ حضرت
<p>ازقلم: محمد خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی</p>
<p>قاطع نجدیت ؛ ناشر مسلک اعلی حضرت؛ مرد جوزا مجاہد ملت؛ لمبے قد ؛گندمی رنگ ؛گول اور چھدری داڑھی؛ کشادہ اور بلند پیشانی ؛چہرانورانی؛ پیشانی پر سجدے کا چمکتا ہوا نشان ؛سر پر دو پلہ ٹوپی؛ ململ یا مارکین کا لمبا کرتا؛ جس میں کئی کئی پیوند؛ برسوں کے سلی ہوئے صدری؛ سادہ مزاج ؛ گرجتی ہوئی آواز ؛ سلیم شاہی جوتا یا گھسی پٹی چپل آپ استعمال فرماتے ہیں آپ صوبہ اڑیسہ کے ضلع بالیسر ؛ قصبہ دھام نگر کے رئیس اعظم؛ نسبا عباسی ؛مسلکا سنی حنفی رضوی ؛ مشربا قادری اشرفی تھےآپ کی ولادت 8/ محرم الحرام 1322ھ بمطابق 22/مارچ 1904ء میں ہوئیاوروصال پرملال 6/جمادی الاول 1401ھ بمطابق 13/مارچ 1981ء میں ہوا۔ آپ نے 78 سال زندگی پائی اور تقریباًپورے پچاس سال تک پورے ہوش وحواس کے ساتھ مذہب و مسلک اعلی حضرت اور قوم وملت کی خدمات انجام دیتے رہے جب جہاں جیسی ضرورت پیش آئی آپ نے ملک و مسلک وملت کے لیے خود کو پیش کیاآپ کو شہزادہ اعلیٰ حضرت حضور حجتہ الاسلام علامہ مولانا حامد رضا خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سلسلہ عالیہ رضویہ کی سند خلافت عطا فرمائی اسی طرح سلطان المشائخ حضرت اشرفی میاں رحمتہ اللہ علیہ نے سلسلہ عالیہ اشرفیہ کی خلاف سے سرفراز فرمایااسی طرح وقت کے نامور علمائے کرام مشائخ عظام نے آپ کو خلافت اور دعاؤں سے نوازاآپ کا انداز بیان بے مثال ہوتا تھا آپ نے اپنی پوری زندگی مسلک حق اہلسنت و جماعت یعنی مسلک اعلیٰ حضرت کے لئے وقف کی آپ سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمتہ اللہ علیہ سے سچی محبت وعقیدت ؛ الفت ؛انسیت رکھتے تھےتقریباً 2015 میں مجھ فقیر کی ملاقات ماہر ہفت لسان ؛ نائب حضور حبیب الرحمن ؛ حضرت مفتی عشق الرحمن صاحب مدظلہ العالی والنورانی سے ہوئی گفت و شنید کے مابین حضور مجاہد ملت رحمتہ اللہ علیہ کا میں نے تذکرہ کیا تو حضرت نے فرمایا کہ اشاعت مسلک اعلی حضرت پر جو کام حضور مجاہد ملت نے کیا ہے اسکو ساری دنیا جانتی ہے حضرت نے فرمایا حضور مجاہد ملت رحمتہ اللہ علیہ مردے چوزہ تھے اللہ نے آپ کی زبان میں وہ نطق عطا فرمایا تھا کہ جس موضوع پہ آپ بولنا شروع کرتے تو کئی کئی گھنٹے فصاحت و بلاغت سے پر گفتگو فرماتےآپ کو نہ تو کسی دیوبندی و وہابی سے کوئی خوف تھا نہ حکومت وقت سے آپ کے دل میں خوف تھا تو اللہ تعالیٰ کا کسی کی محبت تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیکسی کا احترام کرتے تھے تو وہ اللہ والوں کا؛ آپ کے مناظر ے ؛ مباحثے؛ خُطبات ؛ بیانات؛ تصنیفات؛ کرامات؛ اور کمالات کی فہرست بہت طویل ہے آپ نے پوری زندگی مذہب اسلام کے خاطر ؛ دین متین کی اشاعت کے خاطر؛ مذہب و مسلک کی تبلیغ کے خاطر؛ مسلک اعلیٰ حضرت اشاعت میں صرف کی اور مسلک اعلی حضرت کے وہ نمایاں کام آپ نے انجام دیے ہیں جنکو رہتی دنیا یاد رکھے گی اللہ تعالیٰ آپ کی تربت انور پر رحمت و انوار کی موصلہ دھار بارش فرمائے اور آپ کے صدقے میں اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کی مغفرت فرمائے آمین یارب العالمینکسی شاعر نے اشارہ کیا ہےتیرے اصول تیری قیادت نہ بھولیں گےہم تجھ کو اے مجاہد ملت نہ بھولیں گےچشمہ رواں ہے تجھ میں رضا کے علوم کااہل رضا کبھی تیری حکمت نہ بھولیں گےتجھ سے مہک رہی ہے اڑیسہ کی سرزمیناے نازش چمن تری نکہت نہ بھولیں گےتیرا جہاد فکر قلم سنیت کی روحایمان والے تیری حمایت نہ بھولیں گےتازہ ہیں ذہن و فکر میں تیرے مناظرےباطل کے سامنے تیری جرأت نہ بھولیں گےدی تونے نجدیت کو ہر ایک مرحلے پر ماتنجدی تیرا غضب تیری شدت نہ بھولیں گےرشک قمر ہے دھام نگر کی تجلیاںمومن تیری ضیاۓبصیرت نہ بھولیں گےسہلا رہے ہیں نجدی تیری مارکے نشان تجھ سے مقابلے کی وذلت نہ بھولیں گےجھنڈے وفا کے گاڑے عرب کی زمین پرنجدی وہ تیری علمی جلالت نہ بھولیں گے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

شہید یحییٰ سنوار کی وصیت!

غوث الرحمٰن خواجہ عبدالحلیم المعروف حضرت حاجی آغا (حضرت آغا بابجی صاحب)



