منقبت در شان امام عشق و محبت، امام اہل سنت، مجدد دین و ملت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمة و الرضوان
<p>رشحات قلم: محمد امثل حسین گلاب مصباحیفیض پور سیتامڑھی ٢٦ ستمبر ٢٠٢١ء</p>
<p>اے مرے احمد رضا وصف کیا لکھوں ترامیری فکروں سے فزوں ہے جب کہ تیرا مرتبہ</p>
<p>تیری فکروں نے کیا قطرے کو بحرِ بیکراںتیری نظروں نے کیا ذرے کو درِّ بے بہا</p>
<p>تیرے کاموں نے سرِ شوریدہ کو بخشا سکوںتیری باتوں نے دلِ پژمردہ کو بخشی جلا</p>
<p>تیری نثروں سے ہمیں ملتا ہے الفت کا سبقتیری نظموں سے ہمیں آتی ہے خوشبوئے وفا</p>
<p>تیری تصنیفات ہوں یا تیری تحقیقات ہوںاہلِ سنت کے لیے ہیں وہ تو عینِ کیمیا</p>
<p>فخر کرتے ہیں تری تحقیق پر اہلِ نظرناز کرتے ہیں تری توضيح پر اہلِ وفا</p>
<p>کیا لکھے تیری ذکاوت کے تعلق سے قلمتو نے بس اک ماہ میں حفظِ قرآں کر لیا</p>
<p>صدیوں پہلے کی تری تصنیف اور تالیف سےنجد کے ایوان میں برپا ہے اب تک زلزلہ</p>
<p>اک دیا ایسا جلایا تو نے بزمِ عشق میںجس سے لاکھوں دل نے پائی عشق و عرفاں کی ضیا</p>
<p>پورے بھارت میں نظر آتا نہیں تجھ سا فقیہفقہ سے لاکھوں کا سینہ تو نے روشن کر دیا</p>
<p>ماہرِ اردو ادب بھی کر نہ پایا آج تکجس طرح قرآن کا تو نے کیا ہے ترجمہ</p>
<p>یاد تیری کیف بن کے ایسے دل پر چھا گئیبرگِ گل پر جیسے چھا جاتی ہے شبنم کی ردا</p>
<p>صدقہ مل جائے اسے بھی اے فقیہِ بے بدلمانگتا ہے فقہ کی خیرات یہ امثل ترا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

سیرتِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ

حضرت علامہ مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی رحم ة اللہ تعالیٰ علیہ



