غزل: نہیں تم ہو بھارت چلانے کے قابل
📅 24-10-2024
👁 11 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>نہیں تم ہو بھارت چلانے کے قابلفسادوں سے اس کو بچانے کے قابل</p>
<p>یہاں پر تو ہوتے ہیں روز آنہ دنگےنہیں تم نے چھوڑا زمانے کے قابل</p>
<p>تھا اچھے دنوں کا جو وعدہ تمھاراہوئے تم نہ اس کو نبھانے کے قابل</p>
<p>ہیں دنگے کرائے ہوئے دیش بھر میںاجی ! کیا ہو تم منہ دکھانے کے قابل</p>
<p>ہیں اقبال بھی سوچتے یہ لحد میںبچا کیا ؟ چمن ! اُس ترانے کے قابل</p>
<p>وطن پر فدا ہم ہیں ہردم۔ مگر تمتھے تب بھی نہیں سر کٹانے کے قابل</p>
<p>قمرؔ تیرا غم ہے زمانے میں ظاہرنہیں ہے مگر تو سنانے کے قابل</p>
<p>نتیجۂ فکر: محمد شعیب رضا قمرؔ گورکھ پوری</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ! اب کس دیوار پہ سر اپنا پٹکوں؟

سانس بھی لوگے تو غدار کہا جائے گا



