غزل: بے لوث میرے عشق کا انجام ہی تو ہے
<p>نتیجۂ فکر: سید اولاد رسول قدسینیویارک امریکہ</p>
<p>بے لوث میرے عشق کا انجام ہی تو ہےمجھ کو جو درد دل ملا ، انعام ہی تو ہے</p>
<p>امید صبح مجھ کو تسلی یہ دے گئی"لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے"</p>
<p>میں چڑھ کے دوش آہ پہ عرش عُلیٰ گیامیری ترقیوں کا حسیں بام ہی تو ہے</p>
<p>معنی نے سب سے کہہ کے یہ دامن چھڑا لیایہ بے گناہ لفظ پہ الزام ہی تو ہے</p>
<p>پیتے چلے گئے سبھی مے خوار بے خطرلبریز زہر سے ہے مگر جام ہی تو ہے</p>
<p>مدھم نہ کر سکا مری چاہت کی شمع کوحربہ مرے حریف کا نا کام ہی تو ہے</p>
<p>پاؤں پہ ہم نے خود ہی کلہاڑی جو مار لیاپنے کئے کا آج یہ انجام ہی تو ہے</p>
<p>رسوائیوں کی فکر مرا کیا بگاڑتیلب پر ہوا کے میرا فقط نام ہی تو ہے</p>
<p>جسم یقین پر جو لگاتا رہا ہے ضربتحریک ذہن و فکر کا ایہام ہی تو ہے</p>
<p>اس کو فضولیات میں شامل نہ کیجئیےقدسؔی یہ شاعری بھی بڑا کام ہی تو ہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



