مظلوم محمد زبیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
<p>ازقلم: محمد خورشید رضا مصباحیگریڈیہ جھارکھنڈ</p>
<p>کون ہیں محمد زبیر؟آلٹ نیوز کے کو فاؤنڈر (شریک بانی)محمد زبیر یہ وہی شخص ہیں جنھوں نے گستاخ رسول،بد طینت نوپورشرما کی ہفوات کا ترجمہ کرکے خلیجی ممالک تک پہنچانے میں اہم کردارادا کیا۔جس سےمودی جی کی شبیہ خراب ہوئی چاروں طرف سے تھو تھو ہوا اور جھکنا پڑا۔اب ہمارے صاحب کہاں رکنے والے تھے عادتاً مجبور ہیں،شازشیں شروع کردیں۔آخر دفعہ 153(فساد پر ابھار نے) اور دفعہ 295 اے(مذہبی منافرت پھیلانے) کےجرم کے تحت محمد زبیر کو گرفتار کرلیا گیا ہـے۔۔۔کیا ہـے معاملہ؟1983ء کو ایک فلم بہ نام"کسی سے نہ کہنا"منظر عام پر آتی ہـے۔اس فلم کے ڈائریکٹر(بنانے والے)"رِشی کِیش مکھرجی"جی ہیں۔اس فلم کو Censor board(وہ انتظامیہ جس کے پاس سے فلم ریلیز ہونے کے لیـے آتی ہـے)نے پاس کیا،اس کے مناظر میں ایک ہوٹل کا نام"(honeymoon hoetl) ہنی مون ہوٹل ہـے،محمد زبیر اسی فلم سے ایک اسکرین شارٹ 2018ء میں ٹویٹ کرتے ہیں اور اس پر کیپشن ڈالتے ہیں"2014ء سے پہلے ہنی مون ہوٹل تھا 2014ء کے بعد ہنو مان ہوٹل ہو گیا"۔۔۔دراصل یہ(محمد زبیر) اس فلم کے ایک Scene سے ایک مخصوص متشدد سیاسی جماعت پر کنایۃً طنز کستے ہیں،اس ٹویٹ سے ایک ہنو مان بھکت کےادھار لیـے ہوئے آستھا کو 19/جون 2022ء کو تقریباً چار سال بعد ٹھیس پہنچتی ہـے تو فوراً دہلی کی ایماندار پولیس متحرک ہوجاتی ہـے اور چار سال کے قلیل مدت میں اتنے بڑے ملزم محمد زبیر کو دھر دبوچتی ہـے۔دیکھا آپ نے پولیس کی بہادری،کہاں سے کہاں تک کڑی سے جوڑ کر،1983ء سے 2018ء ہوتے ہوئے آخر 2022ء میں اصل مجرم کو پکڑ ہی لیا۔</p>
<p>دلچسپ بات یہ ہـے کہ اس گرفتاری میں کوئی لاجک ہی نہیں ہـے،یہاں"کرے کوئی،بھرے کوئی" والا معاملہ ہوا ہـے۔سب سے پہلے اس کو گرفتار کرنا چاہیـے جس نے اس فلم کو سینسر بورڈ سے پاس کیا پھر اس کے تخلیق کار سے پوچھ گچھ کرو تب کہیں نمبر آتا ہـے محمد زبیر کا۔آلٹ نیوز کے بانی نے صرف وہی باتیں کی جو رشی کیش جی نے فلمایا ہـے۔خیر انتظار ہـے شاید دہلی پولیس نے ترتیب بدل لیا ہوکہ آج کل:</p>
<p>عالٹے ہی چال چلتے ہیں دشمنان عشق</p>
<p>کچھ من کی باتیںانڈین گورمینٹ سے بڑا بـےوقوف اور تعصب پرست کوئی نہیں ہـے،کہ گراؤنڈ زیرو(نوپور،شرما،نوین جندل،یتی نرسمہا نند،اے-وی-بی-پی کی کومل شرماجے-این-یو حملہ آور لیڈی اور کپل مشرا جیسے خطرناک آتنکی کے منصوبوں پر) پر،بندھ نہیں باندھ رہی ہـے۔بلکہ باہر بہنے والے پانی کو روکنے میں لگی ہوئی ہـے تو یہ کبھی ممکن ہی نہیں کہ پانی بند ہوجائے جب تک اصل جگہ کی بندش نہیں ہوگی۔اور اِدھر کوئی بھی مسلمان اپنے گھر(مذہب اسلام)کو سیلاب سے متاثر ہرگز نہ ہو نے دے گا جب تک جسم میں جان کی رمق باقی رہـے گی تحفظ ناموس رسالت کرتے رہیں گے اس لئے کہ امام اہل سنت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:؎</p>
<p>جان ہـے عشق مصطفیٰ روز فزوں کرے خداجس کو ہو درد کا مزہ ناز دوا اٹھائے کیوں؟</p>
<p>اللہ مکاروں کو نشان عبرت بنائے("اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ"۔۔۔۔یعنی: اللہ بہترین تدبیر فرمانے والا ہـے)آمین یارب العالمین</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر



