Hamari Aawaz

سنجیدگی کیسے بخشش کا ذریعہ بنی؟

مضامین و مقالات ← مذہبی مضامین
📅 29-06-2022 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>ازقلم: خلیل احمد فیضانی</p>
<p>سنجیدگی مرد مؤمن کا وقار ہے-اس کی زینت ہے-غیر سنجیدہ انسان غیر معتمد ہوتا ہے,لوگ اس سے مشورہ لینا پسند نہیں کرتے ہیں اور اگر وہ طفیلی بن کر مفت کے مشورے دے بھی; تو اس کے مشوروں کی ان کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی ہے۔مزاح کا جواز اگرچہ اسلام میں ہے لیکن اس کی ایک حد ہے- ایسے بول جو دوسرے کی اذیت و استہزا کا سبب بنیں یا جن سے متکلم خود کی ہی عزت داؤں پر لگ جاۓ تو یقینا وہ بول قابل ممانعت گردانے جائیں گے اور ان کے تکلم سے متکلم کو روکا جاۓ گا-بعض لوگ چوبیسوں گھنٹے مزاحیہ موڈ میں رہتے ہیں…. ہنسی و قہقہوں کی دنیا سے باہر نہیں آنا چاہتے,اس رویہ کا ان کو نقصان یہ اٹھانا پڑتا ہے کہ کویٔی بھی سنجیدہ مزاج فرد ان کے ساتھ تعلق رکھنا یا باہم مل کر کسی کام کو آگے بڑھانا قطعا پسند نہیں کرتا ہے -ایسوں کے لیے سنجیدگی کے ساتھ عرض ہے کہ آپ اپنی اس روش کو بدلیں! ورنہ نظر انداز کیے جاؤگے ,لوگ آپ کو ہر موقع پر نظر انداز بھی کریں گے اور ہمہ وقت ہنستے رہنے سے آپ کا دل بھی مردہ ہوجاۓ گا جو مستقل طور پر ایک بہت بڑی آفت ہے -حدیث پاک میں ہے :ولا تکثر الضحک فان کثرہ الضحک یمیت القلب یعنی بہ کثرت نہ ہنسو کہ بہ کثرت ہنسنے سے دل مردہ ہوتا ہے -حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: کہ جو شخص زیادہ ہنستا ہے ,اس کا دبدبہ اور رعب چلا جاتا ہے اور جو آدمی مزاح کرتا ہے یعنی کثرت کے ساتھ, تووہ دوسروں کی نظروں سے گر جاتا ہے-اعتدال و میانہ روی دین اسلام کا وہ سنہرا نقش ہے کہ جس نے بھی اس کا حسیں چہرہ بگاڑنے کی کوشش کی یا اس کے استعمال میں افراط و تفریط سے کام لیا اس نے خسارہ اٹھایا اور ندامت اس کا مقدر بنی-اسی طرح معاملہ مزاح کا بھی ہے کہ اس میں بھی کبھی سنجیدگی کا پہلو نظر انداز نہیں ہونا چاہیےحضرت سعد بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے فرزند ارجمند کو نصیحت کرتے ہوۓ فرمایا کہ :تم اپنے مذاق میں میانہ روی اختیار کرو ;کیوں کہ بہت زیادہ مزاق جہاں انسان کی عزت و شوکت کا خاتمہ کردیتا ہے وہیں احمق افراد کو اس بات پر جری کر دیتا ہے کہ وہ اس پر سوقیانہ زبان استعمال کریں…یوں ہی اگر مزاح میں کمی رہ گئی تو اہل محبت تم سے کترائیں گے اور دوست و احباب تم سے وحشت کھائیں گے…-یقینا سنجیدگی کے دنیاوی فوائد بھی بہت ہیںکہ آپ کی عزت سلامت رہتی ہے بلکہ مزید فزوں ہوتی ہے,دل مرتا نہیں ہے,لوگوں کے درمیان آپ کی شخصیت باوقار رہتی ہے,لوگ آپ پر بھروسہ کرنا شروع کردیتے ہیں… باہمی و اہم مشوروں میں آپ کی شرکت نا گزیر سمجھی جاتی ہے… اس کے علاوہ بھی ڈھیروں ڈھیر فوائد کی بہاریں ہیں…. لیکن یہاں پر ان میں سے صرف ایک بہار رقم کی جاتی ہے جو یقینا آپ میں سنجیدگی کی ایک تحریک پیدا کردے گی..- بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بزرگ بعد وصال اپنے کسی عزیز کے خواب میں آۓ,اس عزیز نے پوچھا ما فعل اللہ بک؟ یعنی اللہ تعالی نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رب تعالی نے ان کو بخش دیا ہے- اوربخشش کی وجہ یہ بتلائی کہ زندگی میں, میں نے کبھی بھی سنجیدہ بات میں مذاق نہیں ڈالی تھی بس اللہ تعالی کو ان کا یہ عمل اتنا پسند آیا کہ اس ایک عمل کی وجہ سے ہی ان کو پروانۂ بخشش دے دیا گیا -ایک انسان ساری زندگانی اس آرزو و تڑپ میں گزار دیتا ہے کہ کاش !!میری آخرت بہتر ہوجاۓ-اور وہاں مولا کی بارگاہ میں سنجیدگی و بردباری کا اتنا بڑا مقام کہ وہ بخشش کا ذریعہ بن رہی ہے- تو عقل مند انسان اندازہ لگا سکتا ہے کہ سنجیدگی کتنی بیش بہا دولت ہے -اس لیے اخیر میں عرض ہے کہ غیر سنجیدہ ماحول سے گریز کریں,صحبت, سنجیدہ افراد کی اختیار کریں سنجیدہ رہیں, اور دینی دنیاوی فوائد سے اپنے آپ کو محظوظ کریں-</p>
<p>یہ تحریر چند پہلے ارسال کی گئی تھی مگر چند مقامات پہ اغلاط محسوس ہونے پر دوبارہ ارسال کیا جارہا ہے-</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 20941 قارئین📊 4.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

سیرت حسینیؓ :حق پر استقامت اور کردارِ مومن کی معراج

دین کا کام اور دین پر چلنے کی حقیقت:قولِ امام ربانی کی روشنی میں ایک اصلاحی تجزیہ

دنيا كی حقیقت اور قرآنی مثالیں

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 109 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 81 ویوز