Hamari Aawaz

شہزادہ صدر الشریعہ علامہ حکیم شمس الہدی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان مختصر سوانح

سیرت و شخصیات ← علما و مشائخ
📅 12-04-2022 👁 9 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>١٠ رمضان المبارک یوم وصال پر خصوصی پیشکش</p>
<p>آپ محلہ کریم الدین پور گھوسی ضلع اعظم گڑھ حال مئو میں پیدا ہوئے۔آپ کی پیدائش پر صدر الشریعہ نے فرمایا تھا کہ"اگر میرا یہ بیٹا دین کا. عالم ہوجائے گا تو میرے خاندان میں دس پشتوں سے مسلسل عالم ہوجائیں گے"</p>
<p>آپ نے والد گرامی کی نگرانی میں منشی مولوی، عالم، فاضل کیا. طب و حکمت بھی حاصل کیا.. اور جید عالم وحکیم ہوئے۔</p>
<p>آپ بڑے علم دوست تھے. فراغت کے بعد والد گرامی نے گھر ہی رہنے کا حکم دیا اور اس وقت گھوسی میں کوئی اسلامی مکتب نہیں تھا اپ نے اپنی سعی سے ایک مکتب اپنی آبائی زمین پر قائم کیا جہاں اس وقت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ کا مزار پر انوار ہے۔پھر آپ نے نوجوانوں کی تعلیم کی طرف توجہ مبذول کی اور لوگوں سے مشورہ کے بعد اپنے والد کی ایک زمین جو ان کی زمینداری میں تھی مدرسے کے لیے مقرر کردی اور فرمایا"آپ سب لوگ مل کر اس زمین پر مدرسہ قائم کرو"</p>
<p>لوگوں نے جوش و خروش کے ساتھ مٹی گارے کے ذریعے مدرسہ کی تعمیر کی۔جس میں آپ مغرب سے عشاء تک درس دیتے تھے۔</p>
<p>مکتب اور یہ ادارہ دونوں کامیابی کے ساتھ چلتے رہے۔تقریباً چالیس سال کی عمر میں حکیم شمس الہدی علی الرحمہ کا وصال ہوگیامگر ان کا قائم کیا ہوا مدرسہ چلتا رہا۔ایک طویل عرصے کے بعد رئیس الاذکیا علامہ غلام یزدانی اعظمی گھوسوی علیہ الرحمہ نے ارادہ کیا کہ یہاں ایک باقاعدہ دینی درسگاہ ہونی چاہیے تو گھوسی کے سربرآوردہ حضرات کو اپنے اردے سے آگاہ کیا، لوگوں نے بھی ہمنوائی کی اور حاجی شکر اللہ مرحوم نے دو منڈہ زمین مدرسے کے لیے وقف کی اور بنیاد رکھنے کی تیاری بھی مکمل ہوگئی آخر میں یہ مسئلہ درپیش ہوا کہ مدرسہ کا نام کیا رکھا جائے تو مولانا غلام یزدانی علیہ الرحمہ نے فرمایا "گھوسی میں تعلیم و تربیت کے میدان میں حکیم شمس الہدی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں اس لئے ان کے نام سے" شمس العلوم " نام رکھا جائے۔</p>
<p>اس طرح گھوسی میں تعلیم و تربیت کی جو بھی جلوہ ریزیاں ہیں وہ صدر الشریعہ اور ان کے شہزادگان کی برکت ہے۔</p>
<p>وصال:رمضان المبارک کی دسویں شب ١٣٥٩ھ کو آپ نے پردہ فرمایا۔اس وقت حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نماز تراویح ادا فرما رہے تھے، اطلاع دی گئی تشریف لائے، انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا "ابھی آٹھ رکعت باقی ہے" اور پھر نماز میں مصروف ہوگئے۔آپ نے اپنے پیچھے تین صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادہ چھوڑا۔آپ کے صاحبزادے حضرت علامہ قمر الہدی علیہ الرحمہ بھی اپنے والد ماجد اور جد کریم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی پوری زندگی علم دین کی نشر و اشاعت اور مسلک اعلی حضرت کی ترویج کے لئے وقف کردی۔</p>
<p>اللہ ان نفوس قدسیہ کے نقوش پا کی اتباع کی توفیق عطا فرما۔ آمین</p>
<p>ازقلم: (خاکپاے صدرالشریعہ) شاداب امجدی گھوسوی</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21643 قارئین📊 4.5 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

امام جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ: حیات و خدمات

مناظر اہل سنت، مظہرِ اعلیٰ حضرت، شیر بیشہ سنت، علامہ حشمت علی خان علیہ الرحمہ

سرکار فخر بہار مفتی غلام رسول حشمتی علیہ الرحمۃ و الرضوان؛ حیات و خدمات (قسط اول)

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز