Hamari Aawaz

روزے کے جسمانی و روحانی فوائد، اسلام و سائنس کی روشنی میں (قسط دوم)

ماہ وار مضامین و مقالات ← رمضان المبارک
📅 11-04-2022 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>از قلم: محمد ہاشم اعظمی مصباحی، نوادہ مبارکپور اعظم گڑھ یو۔پی۔</p>
<p>روزہ کی فرضیت کے بارے میںﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة،2 :183)’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ‘‘دوسرے مقام پر حکمت و موعظت سے لبریز ارشادِ ربانی ہے: وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(البقرۃ :185)اور تمہارا روزے رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔</p>
<p>احادیث نبوی صل اللہ علیہ وسلم میں بھی روزے کی فرضیت و فضیلت کو خوب خوب اجاگر کیا گیا ہے جو عمل کے لئے مہمیز اور زندگی کے لئے بندگی اور بندگی کے لئے تابندگی کا روشن باب ہے. اب ورق الٹئے اور روزے کی عظمت و اہمیت کے حوالے سے احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطالعہ سے کشت ایمان کو سیراب کیجئے۔1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِ يْمَانًا وَّ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَه. مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه.(بخاری، باب صوم رمضان احتسابا من اليمان،1 : 22،رقم :38)’’جس نے بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘</p>
<p>2۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ کَجُنَّةِ أَحَدِکُمْ مِنَ الْقِتَالِ.(نسائی،کتاب الصيام، 2 : 637)</p>
<p>’’روزہ جہنم کی آگ سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی شخص کے پاس لڑائی کی ڈھال ہو۔‘‘</p>
<p>3۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِها إِلَی سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی مَا شَائَ اﷲُ، يَقُوْلُ اﷲُ تَعَالَی:إِلَّا الصَّوْمُ فَإِنَّهُ لِی، وَأَنَا أَجْزِی بِهِ.(ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ما جاء فی فضل الصيام، 2 : 305)’’آدم کے بیٹے کا نیک عمل دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آگے جتنا ﷲ چاہے بڑھایا جاتا ہے۔ ﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:روزہ اس سے مستثنیٰ ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔</p>
<p>قرآن و حدیث میں روزے کی اس قدر فضیلت واہمیت کے درج ذیل اسباب ہیں۔</p>
<p>پہلا سبب : روزہ لوگوں سے پوشیدہ ہوتا ہے اسےﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا جبکہ دوسری عبادتوں کا یہ حال نہیں ہے کیونکہ ان کا حال لوگوں کو معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ خالص ﷲ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔</p>
<p>دوسرا سبب : روزے میں نفس کشی، مشقت اور جسم کو صبر و برداشت کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس میں بھوک، پیاس اور دیگر خواہشاتِ نفسانی پر صبر کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری عبادتوں میں اس قدر مشقت اور نفس کشی نہیں ہوتی ہے۔</p>
<p>تیسرا سبب : روزہ میں ریاکاری کا عمل دخل نہیں ہوتا جبکہ دوسری ظاہری عبادات مثلاً نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں ریاکاری کا شائبہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>چوتھا سبب : کھانے پینے سے استغناءﷲ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ روزہ دار اگرچہ ﷲ تعالیٰ کی اس صفت سے متشابہ نہیں ہو سکتا لیکن وہ ایک لحاظ سے اپنے اندر یہ خلق پیدا کر کے مقرب الٰہی بن جاتا ہے۔</p>
<p>پانچواں سبب : روزہ کے ثواب کا علم ﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں جبکہ باقی عبادات کے ثواب کو رب تعالیٰ نے مخلوق پر ظاہر کر دیا ہے۔</p>
<p>چھٹا سبب : روزہ ایسی عبادت ہے جسے ﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا حتی کہ فرشتے بھی معلوم نہیں کر سکتے۔</p>
<p>ساتواں سبب : روزہ دار اپنے اندر ملائکہ کی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے وہ ﷲ کو محبوب ہے۔</p>
<p>جاری۔۔۔۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21356 قارئین📊 4.4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

رخصت اے رمضاں

شکریہ رمضان تیرا الوداع اب الوداع

الوداع اے ماہ فرقاں الوداع

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز