Hamari Aawaz
• نگاہوں کی آوارگی اور دلوں کی ویرانی • ہندوستان 2047: مسلم نوجوانوں کے لیے ایک نئے عہد کی دستک • شراب کے دینی و دنیوی نقصانات؛ ایک اصلاحی، علمی اور عملی جائزہ • امام جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ: حیات و خدمات • کس قدر پرنور ہے روضہ نظام الدین کا • سیرت حسینیؓ :حق پر استقامت اور کردارِ مومن کی معراج • شہید ہوتی مسجدیں !! • آہ! اب میرِ کارواں نہیں رہا • آفتابِ علم و قلم غروب ہو گیا • ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے

وسائل سے مسائل کا حل

مضامین و مقالات
📅 31-10-2021 👁 4 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>از: مدثراحمد، شیموگہ کرناٹک9986437327</p>
<p>رجت دتتا نامی محقق نے ایک ریسرچ کی ہے جس میں انہوں نے اس بات کا پتہ لگایاہے کہ ملک میں جسٹس سچر کمیٹی کی سفارشات کو14 سال گذرنے کے باوجودا ب تک مسلمانوں کے حالات بہتر نہ ہوئے ہیں،نہ توحکومتوں نے اس سمت میں کوئی کام کیاہے اور نہ ہی مسلم تنظیموں اور نمائندوں نے مسلمانوں کے حالات کو بہتربنانے کیلئے پیش رفت کی ہے۔آج بھارت میں مسلمان ایک ایسا طبق ہے جو نہایت پسماندگی کا شکارہےا ور یہ لوگ روزگار ،تعلیم اور معاشی طور پر کمزور مانے جانے والی قوم میں شمار ہوتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں کے پاس جو اوقافی املاک ہے وہ دوسری قوموں کی املاک کے مقابلوں میں سب سے زیادہ ہے،اوقافی اداروں کی آمدنی کا جب بھی جائزہ لیاجاتاہے تو ریلوے کے بعد سب سے زیادہ آمدنی مانی جاتی ہے۔مگر جس قوم کو معاشی،اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے دلتوں سے بدتر ماناگیاہے وہ قوم آخر ان اوقافی اداروں کی آمدنی کا استعمال کرنے سے قاصرکیوں ہےجو سب سے بڑا سوال ہے؟جائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک کی13 بڑی ریاستوں میں اوقافی املاک پر70 فیصد غیر قانونی قبضے ہوئے ہیں اور یہ قبضے کرنے والے عام لوگوں سے زیادہ مسلمانوں کے سیاسی،ملّی قائدین ہیں،ان کے ساتھ حکومتیں بھی ہیں،اس وجہ سے مسلمان ان اوقافی اداروں سے استفادہ کرنے سے قاصرہیں۔حکومتوں اور وقف بورڈ سے حق مانگنا اس وقت تیسری جنگ عظیم کرنے کے برابرہوگا،یہی وجہ ہے کہ اب مسلمانوں کو اپنے بل بوتے پر اپنے وجود کوبچائے رکھنے کیلئے پیش رفت کرنا ہوگا۔مالدار مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر ہی سہی مسلمانوں کوروزگا رسے جوڑنے کیلئے کام کرتے ہیں،چھوٹی صنعتیں ،دستکاریاں،کارخانے اور فیکٹریاں بناتے ہیں تو اس سے کئی روزگارکے وسائل پیدا ہونگے اور مسلمانوں کی معاشی و اقتصادی مسائل حل ہوجائینگے۔مسلمانوں کے پاس میان پائورکی کمی نہیں ہے نہ ہی مالدارطبقے کی کمی ہے،اگر کمی ہے تو صرف اخلاص اور وسیع النظرکی۔ہم نے کئی ایسے مالداروں کو دیکھاہے جو صرف زمینیں،زمینیں اور صرف زمینیں خریدنے کوہی مالداری سمجھ رکھا ہے۔یقیناً اگر یہ لوگ اپنی مالداری کو ظاہر کرنا چاہتےہیں تو وہ بھی ٹاٹا،ریلائنس،پرسٹیج جیسی کمپنیوں کا آغاز کرتے ہوئے نہ صرف اپنے مال کو بڑھاوا دے سکتے ہیں بلکہ اپنے ماتحت سینکڑوں افراد کو روزگار دے سکتے ہیں۔آج رئیٹل سیکٹر کا جائزہ لیں تو وہاں پر مارواڑیوں کا قبضہ ہے،اڈمنسٹریشن کا جائزہ لیں تو وہاں پر برہمنوں کا قبضہ ہے،مینوفیکچرنگ یونٹس پر دیکھیں تو وہاں پر بھی اونچی ذاتوں کادبدبہ ہے۔بھارت کے ٹاپ مالداروں کی فہرست نکال کر دیکھیں تو وہاں پر گجراتی کاروباریوں کے نام سامنے آئینگے،وہی مزدور پیشہ لوگوں کی فہرست کا جائزہ لینگے تو سب سے زیادہ مسلمان ہی سامنے آئینگے۔یہ اور بات ہے کہ مزدوری کرنا عیب نہیں ہے لیکن پڑھے لکھے ہوکر بھی کئی نوجوان روزگارنہ ملنے کی وجہ سے مزدوری کرنے کیلئے مجبورہیں۔ہوٹل بزنس کا جائزہ لیں تو اس میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں ہے،آج ہر کاروبار میں مسلمانوں کا وجود کمزور ہوتاجارہاہے،جبکہ تجارت مسلمانوں کیلئے سُنت اور برکت قرار دی گئی ہے،مگر اسی تجارت سے برکت حاصل کرنے کےبجائے آج بیرونی ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت غلامی زندگی گذار رہی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مالدار طبقہ اپنے حلقوں میں روزگارکے وسائل بنائیں اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کریں،ورنہ یہ قوم غلامی کے لائق بھی نہیں رہے گی۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 20470 قارئین📊 4.2 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

فکر و شعور کا انحطاط

زہر کو زہر ہی کاٹے: ایک تجویز

عقلمند اور بیوقوف

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 101 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 81 ویوز