Hamari Aawaz

اے انسان ذرا غور تو کر‼️

مضامین و مقالات ← مذہبی مضامین
📅 04-12-2021 👁 3 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>ازقلم: ابو المتبسِّم ایاز احمد عطاری</p>
<p>بعض اوقات انسان نافرمانی میں اس قدر آگے بڑھ جاتا کہ اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ جو وہ کر رہا ہے غلط کررہا ہے۔ تو اس وقت بندے کو اپنے رب قھار سے ڈرنا چاہیے۔ خدا کے خوف ، غضب اور اسکی ہیبت سے اسے کانپنا چاہیے۔</p>
<p>توبہ کی توفیق بذات خود اللہ کا کرم و انعام ہوتا ہے اور یہ توفیق اگر چھین لی جائے ، احساسِ گناہ ماند پڑجائے ، حیا کا تقدس فوت ہو جائے ، ایمان کی فکر دل سے غارت ہوجائے تو اس سے بڑی ایک مسلمان کیلئے بدترین سزا اور کیا ہو سکتی ہے ؟</p>
<p>بندہ خدا سے دعا کرے کہ اے ہمارے رب ہمیں ہماری نافرمانیوں کی اتنی بڑی سزا نہ دے ، سرکشی میں کبھی حد سے بڑھنے نہ دے ، توبہ کی توفیق سے کبھی محروم نہ رکھ ، اپنے قہر ، غضب و جلال سے ہماری حفاظت فرما ، ہمارے دلوں اور نگاہوں کو اپنے تابع کر دے۔ آنکھیں صرف اچھی چیزیں دیکھے ، کان صرف وہ سنیں جو چاہت آپ کی ہو۔اے اللہ عزوجل!! میں بندہ تو مالک ، میں محکوم تو حاکم ، تو ہم سب کا واحد رب ہے ، تو ہمیں گناہوں سے بچا لے۔</p>
<p>اے انسان! زندگی کا مقصد اس سے حقیقی محبت کا تقاضا ہے کہ اپنے خالق کی مانی جائے۔ اسکی رحمت اسکے غضب پر حاوی ہے ، جو اپنے بندوں کو بخشنے کے لئے مواقع پر مواقع دیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی حد سے بڑھے تو پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ انہیں نشانِ عبرت بنا دیتا ہے۔</p>
<p>اےمسلمان! ذرا تفکر تو کر ، کس راہ کا تو مسافر اور کس طرف جا رہا ہے؟دنیا تیرا ٹھکانہ نہیں تو کیوں اپنے اصل ٹھکانے سے آنکھیں چرا رہا ہے؟امتحان کی جگہ کو تو منزل سمجھ بیٹھا؟فانی کو تو باقی سمجھ بیٹھا؟ہدایت کی طلب دل سے رخصت کر بیٹھا؟جو طلب گار ہو جس چیز کا اسے وہی ملتا ہے تو کیوں اپنے دل کو سچی راہ کا طلبگار نہیں بناتا ؟ہدایت کے لئے تیرا دل تڑپتا کیوں نہیں؟اپنے رب کو منانے کے لیے مچلتا کیوں نہیں؟جنت کی طلب تیرے دل سے مانند کیوں پڑ گئی؟دنیا کی طلب آخرت سے آگے کیوں بڑھ گئی؟تو غور تو کر کہ ایک مومن کی کیا طرز زندگی یہی ہے؟</p>
<p>دنیا کی لذتیں دھری رہ جائیں گیں ، ساری مصروفیات ختم ہوجائیں گیں ، موت تیرے پیچھے ہے مڑ کر تو دیکھ۔ تیرے آباء و اجداد آج کہاں ہیں یہ سوچ تو سہی؟ اپنے دل کا سکون تو اپنی من مانی بنا بیٹھا؟ عارضی لذتوں کا اسیر ہو کر اپنے نفس کا غلام ہو بیٹھا؟ اپنے ساتھ نافرمانیوں اور گناہوں کا انبار لیے بیٹھا ہے؟ روح بیمار ہے تیری اور تجھے اسکی دوا کی کوئی فکر نہیں؟</p>
<p>اے بندہ! تو غافل ضرور ہے مگر ہے اس کا بندہ ، خود کو اس کے حوالے کر دے ، سچی طلب دل میں پیدا کر ، رجوع الہی کر لے ، وہ تجھے پھر بھٹکنے نہیں دے گا ، اپنے لطف و کرم سے پھرنے نہیں دے گا۔ بس شرط یہ ہے کہ شروعات تو کر ، سرکشی چھوڑنے کا ارادہ تو کر۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 20697 قارئین📊 4.3 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

سیرت حسینیؓ :حق پر استقامت اور کردارِ مومن کی معراج

دین کا کام اور دین پر چلنے کی حقیقت:قولِ امام ربانی کی روشنی میں ایک اصلاحی تجزیہ

دنيا كی حقیقت اور قرآنی مثالیں

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 141 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 101 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 88 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 81 ویوز