غزل: حال دل کا سنانا نہ آیا مجھے
📅 21-12-2020
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال آرائی: شمس الحق علیمیؔ، مہراج گنج</p>
<p>حال دل کا سنانا نہ آیا مجھےتیرے غم کو بھلانا نہ آیا مجھے</p>
<p>زخم تم سے ملا جو مجھےاب تلکہاں کبھی بھی دکھانا نہ آیا مجھے</p>
<p>قسم کھا کر جو روٹھا ہمیشہ اسےآج تک پھر منانا نہ آیا مجھے</p>
<p>یاد ہے مجھکواب بھی وہ ہراِک ستمبھول کر بھول جانا نہ آیا مجھے</p>
<p>عشق کے راستے میں کسی موڑ پرجھوٹی باتیں بنانا نہ آیا مجھے</p>
<p>دل کی بستی کو جلتا ہوا دیکھ کراشک سے پھر بجھانا نہ آیا مجھے</p>
<p>بولے شمسی سے آ کر یہی راہ میںتم سے نظریں ملانا نہ آیا مجھے۔</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



