غزل: ہرجائیوں سے دل لگانا فضول ہے
📅 18-12-2020
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان</p>
<p>ناداں کو اپنا دوست بنانا فضول ہےہر جائیوں سے دِل لگانا فضول ہے</p>
<p>جو سیدھی سادی بات سمجھ کر نہ دے سکےبے جا پھر اس سے سر کھپانا فضول ہے</p>
<p>کوئی نہیں بجھاتا لگی آگ دل میں جوپھر دل میں ایسی آگ لگانا فضول ہے</p>
<p>جس کی سرشت میں ہے وفا اک فضول شےاس سے وفا کی رسم نبھانا فضول ہے</p>
<p>گر ہو یقیں نہ پوری کبھی ہو سکیں گی جوان خواہشوں کو دِل میں بسانا فضول ہے</p>
<p>ہو جس کو اپنی بات نہ عہد وفا کا پاساپنا پھر اس کو دوست بنانا فضول ہے</p>
<p>کیں کوششیں تو لاکھ منانے کی ہم نے پرروٹھے ہیں ایسے وہ کہ منانا فضول ہے</p>
<p>کوشش جو کر رہے ہو اسے بھولنے کی تمپھر اشک بھی فیضان بہانا فضول ہے</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



