نظم: سکوں جہیز کی دولت سے جا نہیں آتی
📅 04-04-2021
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>نتیجۂ فکر: شمس الحق علیمی، مہراج گنج</p>
<p>سکوں جہیز کی دولت سے جا نہیں آتیضمیر زندہ تو ہے کیا صدا نہیں آتی؟</p>
<p>جگر کے ٹکڑے کو والد نے دے دیا تم کو"جہیز مانگ رہے ہو حیا نہیں آتی"</p>
<p>یہاں جہیز کے جو بھی حریص ہیں اُن کوکسی کے نورِ نظر پر دیا نہیں آتی</p>
<p>جلا رہے ہو بہو کو جہیز کی خاطرتمھیں ذرا بھی بہو پر دیا نہیں آتی</p>
<p>جہیز کے جو مخالف ہیں اس زمانے میںگھروں میں ان کے کبھی بھی بلا نہیں آتی</p>
<p>سدا جہیز کی رٹ جو لگاتے ہیں اُن کےلحد میں خلد سے ٹھندی ہوا نہیں آتی</p>
<p>اگر جہیز نہ ہو تو کسی کی بیٹی کیزمین ہند سے ہرگز صدا نہیں آتی</p>
<p>بہت بری ہے نحوست جہیز کی شمسیسوائے توبہ کے اس کی دوا نہیں آتی</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

نگاہوں کی آوارگی اور دلوں کی ویرانی

شراب کے دینی و دنیوی نقصانات؛ ایک اصلاحی، علمی اور عملی جائزہ



