سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کے لیے الغوث احمد بن خلف البلخی کی اپنے بیٹے کو وصیت
<p>پیش کش: بزم رفاعیخانقاہ رفاعیہ، بڑودہ،گجرات9978344822</p>
<p>شیخ العارفین قدوۃ الاولیاء حضرت محمد بن الغوث احمد بن خلف البلخی الحسینی کے والد ماجد عالی مقام ومرتبہ اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں ان کے لئے مشعل راہ تھے۔</p>
<p>جب ان کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے سید محمد سے کہا :کہ تم سید احمد کبیر رفاعی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت کو لازم پکڑنا اور ان کے نقش قدم پر چلتے رہنا کیوں کہ وہ ائمہ اسلام کے بعد اولیاء امت کے شیخ ہیں اور ان کی تعلیمات سے مت منحرف ہونا، اور جان لو! تیری محبت ان کے لئے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہے تو جب ان کے والد الغوث احمد بن خلف البلخی الحسینی کی وفات ہوئی تو وہ سید احمد کبیر رفاعی (رضی اللہ عنہ)کی خدمت میں حاضر ہوئے تو جب انہوں نے سید زادے کو دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور قریب ہوکر سینے سے لگائے اور کہا : أهلا بهدية الغوث!اور ان کو سلسلہ میں داخل فرما کر خرقہ پوشی کی اور دعاؤں سے نوازا۔وہ مذہب حنفی کے بہت بڑے فقہی اور روایت کے بلند ترین محدث تھے،علما بخارا کی تخریج اور علماء سمرقند سے روایات نقل کئے۔بغداد شریف میں ان کی وفات ہوئی قریش کے قبرستان میں اپنے جدِ امجد الامام الکاظم رضی اللہ عنہ کے پایتی میں مدفون ہوئے۔</p>
<p>حوالہ۔عقودالآل ،مصنف علامہ ابو بکر بن محمد الأنصاری</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


