Hamari Aawaz

اعلیٰ حضرت کا قلمی خنجر

سیرت و شخصیات ← خانوادۂ رضا
📅 13-02-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>ازقلم: خبیب القادری مدناپوریبانی: غریب نواز اکیڈمی مدناپور شیشگڑھ بہیڑی بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786</p>
<p>قلم رضا کی مار بھی لاٹھی سے کم نہیںمشہور نجدیوں میں بریلی کا بانس ہے</p>
<p>جب الوہیت پر حملہ کیا گیا تو اللہ تعالی نے مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ کو پیدا فرمایا اورجب رسول اللہﷺ کے اختیارات کا انکار کیا گیا؛جب اطاعت رسول کو شرک قرار دیا گیا؛ جب رسول ﷺ کو اپنے بڑے بھائی کی طرح کہا گیا؛جب علم غیب رسولﷺ کو پاگلوں بچوں اور چوپایوں کے علم کے برابر کہا گیا؛</p>
<p>جب محبت رسولﷺ کا انکار کیا گیا؛ جب میلاد مصطفیﷺ منانے کو بدعت اور غیروں کا شعار کہا اور لکھا گیا؛جب اولیاء اللہ کی محبت کو شرک سے تعبیر کیا گیا ؛ جب ہر طرف سے محبت رسولﷺ؛ اطاعت رسولﷺ؛ اور غلامی رسولﷺ کا انکار کیا گیاتو اللہ تعالی نے بریلی شریف کی سرزمین پر اپنے ایسے بندے کو پیدا فرمایا جس نے نیابت رسول ﷺ کا حق ادا کر دیا اور غداران رسول ﷺ کا قلع قمع کر دیا :اس محبوب بندے کو آج دنیا احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہےترجمہ قرآن کے نام پر جب ایمان والوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا گیاتو امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ کنزالایمان اس قوم دیا اور کہاں وقت کا مجدد ایمان والوں کے ایمان کو لٹنے نہیں دیے گاجب تقویت الایمان لکھ کر خبط الایمان کی دلیل پیش کی گئی تو امام احمد رضا نے قوم کو تمہید الایمان عطا فرمائی</p>
<p>جب تحذیرالناس لکھ کر قوم مسلم کے معیار کا ستیاناس کیا گیا؛تو امام احمد رضا نے قوم مسلم کے معیار کو بچایا</p>
<p>جب فتاویٰ کی بنیاد پر اس قوم کے معیار کو ٹھوکر ماری گئیتو امام احمد رضا قدس سرہ نے فتویٰ رضویہ دے کر اس قوم کے معیار کو بچایاجب علم غیب رسولﷺ کا انکار کیا گیاتو الدولت المکیہ بالمادۃ الغیبیہ جیسی شاہکار کتاب اس قوم کو عطا کیاعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے وہ نمایاں کام انجام دیئے جن کو قیامت تک یاد رکھا جائے گا</p>
<p>اعلحضرت قدس سرہ کی ذات محتاج تعارف نہیں ہےآج ساری دنیا کا جائزہ لو تو پتہ چلے گا کہ اعلی حضرت قدس سرہ کی شان میں اتنی کتابیں لکھی جاچکی ہیں جن کا شمار کرنا آسان کام نہیں ہے</p>
<p>تم چودھویں صدی کے مجدد ہو ایسے اعظملہرا دیےجنہوں نے وہ سنیت کے پرچماہل عرب نےمانا اہل عجم نے مانا احمد رضا یہ تم کو اتنا بڑا مکرم</p>
<p>ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلمجس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیںاعلی حضرت نے تیرہ سال دس ماہ چار دن کی عمر میں پہلا فتوی حرمت رضاعت (یعنی دودھ کے رشتے کی حرمت )پر تحریر فرمایا _ آپ کے والد بزرگوار رئیس المتکلمین حضرت مفتی نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی فقاہت دیکھ کر آپ کو مفتی کے منصب پر فائز کیاآپ کے ابتدائی دس سال کے فتاویٰ جمع نہ ہو سکےدس سال کے بعد کے جو فتاویٰ جمع ہوئے وہ "العطایاالنبویہ فی الفتاوی الرضویہ" کے نام سے 30 جلدوں پر مشتمل ہیںیہ تییس جلدیں تقریبا 22 ہزار صفحات پر مشتمل ہیںاور ان میں چھ ہزار آٹھ سو سینتالیس سوالات کے جوابات اور دو سو چھ رسائل اور اس کے علاوہ ہزار ہا مسائل ضمنا زیر بحث بیان فرمائے ہیں</p>
<p>کس طرح اتنے علم کے دریا بہا دیےعلمائے حق کی عقل تو حیران ہے آج بھیاعلی حضرت سرکار قدس سرہ نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیںجن میں سے تقریبا بارہ سو دستیاب ہو سکیںآپ جتنے عظیم مصنف تھے اس سے بڑھ کر کے عاشق رسولﷺ بھی تھےآپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتے تھے اس کا اندازہ آپ مندرجہ ذیل نمونوں سے لگا سکتے ہیںآپ چوتھی مرتبہ جب حج کے لئے تشریف لے گئے روضہ رسول ﷺ کے سامنے وہ مشہور و معروف نعت لکھی جس کے اشعار یہ ہیںوہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں تیرے دن اے بہار پھرتے ہیںجو تیرے در سے یار پھرتے ہیںدر بدر یوں خوار پھرتے ہیںاور مقطع میں آپ نے اس طریقے سے غلامی پیش کی ہے</p>
<p>کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضاتجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیںیہ مقطع پڑنا تھا حضور رسول الراحت ﷺ روضہ انور سے تشریف لائے اور اپنے عاشق کو اپنے غلام کو عالم بیداری میں دیدار سے مشرف فرمایااعلیٰحضرت تمام علوم و فنون میں مہارت رکھتے تھےآپ عالم ہی نہیں؛ مفتی ہی نہیں؛ متقی ہی نہیں؛مدرس ہی نہیں؛ محقق ہی نہیں؛ مفسر ہی نہیں؛محدث ہی نہیں؛مدقق ہی نہیں ؛شارح ہی نہیں ؛ مترجم ہی نہیں؛شاعر ہی نہیں؛ مقررہی نہیں؛مدرس اورمصنف ہی نہیں بلکہ ان سب کے استاد؛ سردار اور رہنما بھی تھے_مگر کسی نام سے کسی لقب سے آپ کو یاد نہیں کیا جاتا ہے اگر کیا جاتا ہے توامام عشق و محبت سے نام و لقب آپ کو یاد کیا جاتا ہے-اعلحضرت قدس سرہ خود فرماتے تھےاگر کوئی میرے دل کے دو ٹکڑے کرے تو ایک ٹکڑے پر لاالہ الااللہ اور دوسر پر محمد رسول اللہ لکھا ہوا پائے گا_اعلی حضرت قدس سرہ الحب فی اللہ والبغض فی اللہ کی جیتی جاگتی تصویر تھے</p>
<p>ایسی کی ہے اپنے آقا کی مدحت السلامآج دنیا کہہ رہی ہے اعلی حضرت السلام</p>
<p>غوث الاغواث ؛قطب الاقطاب؛سلطان الاولیاء ؛شہنشاہ بغداد؛ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے آپ کتنی محبت فرماتے تھےاس کا اندازہ آپ اس مثال سے لگا سکتے ہیںجب آپ کو پتہ چلا کہ بغداد اس طرف ہے تو آپ نے اس طرف پوری زندگی پیر نہیںپھیلا ئےہندل الولی؛ عطاء رسول؛ خواجہ خواجگان ؛شہنشاہ ہندوستان حضرتخواجہ معین الدین چشتی اجمیری غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ سے آپ کتنی محبت فرماتے تھےاس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں کہ اجمیر کو اجمیر شریف کہاں کرو</p>
<p>اعلی حضرت قدس سرہ کی پوری زندگی محبت رسولﷺ محبت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین؛ محبت اہل بیت اطہار رضی اللہ تعالی عنہم؛ محبت اولیاء اللہ علیہم الرضوان اور عقیدت سادات کرام و خدمت خلق خدا اورتبلیغ دین و اشاعت دین مبینصرف ہوئیجس طرح آپ نے خدمت دین اور خدمت خلق خدا کی ہےاسکا ہی نتیجہ ہے کہ 2020 عیسوی ہوگئی اور آپ کا 102 واں عرس مبارک ہونے جارہا ہے اس کرونا وائرس کی مہاماری کے باوجود غلامان اعلیٰ حضرت کا امنڈتا ہوا سیلاب بریلی شریف کی طرف رواں دواں ہے</p>
<p>ملک سخن کی شاہی تم کو رضا مسلمجس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیئے ہیں</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21366 قارئین📊 4.4 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

سیرتِ حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ

حضرت علامہ مولانا مفتی تقدس علی خان رضوی رحم ة اللہ تعالیٰ علیہ

حضور مفتی اعظم، تعظیمِ نسبت اور ہمارا کردار

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز