Hamari Aawaz

حضرت محمد مصطفیﷺ کی سیرت (قسط 2)

انبیاے کرام ← نبی کریمﷺ
📅 05-02-2021 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>تحریر: خبیب القادری مدناپوریبانی غریب نواز اکیڈمی، بریلی شریف یوپی بھارت</p>
<p>حضور رسول الراحت نبی رحمت حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عمر پاک اس وقت 6 سال کی تھی جس وقت آپ کی والدہ ؛ ماجدہ ؛ حضرت ؛ آمنہ خاتون ؛ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات ہوئی اب آپ کی پرورش آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی جب آپ کی عمر پاک 8 سال 2ماہ 10دن کی ہوئی تو اس وقت آپ کے مشفق دادا حضرت عبدالمطلب کا وصال ہو گیانوٹ : حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سو بیس سال کی عمر پائیوفات سے قبل حضرت عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی ذمہ داری آپ کے سگے چچا ابوطالب کو دی تقریبا43 سال تک آپ کے چچاابو طالب نے آپ کی نگرانی کی</p>
<p>جو آپ کی عمر پاک تقریبا 12 سال کی ہوگئی تو آپ اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملک شام کے سفر کے لئے نکلےسفر پر نکلنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ابوطالب کثیرالعیال اور قلیل المال اور ایک پیر سے معذور تھےجب اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ ملک شام کے سفر کے لیے نکلے تو ملک شام کے شہر بصرہ میں آپ کا قافلہ رکابصرہ میں قافلہ رکنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ بحیرہ راہب( عیسائی پادری) نے قافلہ والوں کو کھانے کی دعوت کی تھیجب قافلے والے اپنا سامان اتار رہے تھے تو بحیرہ راہب نے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کو پکڑ کر عرض کیاھذا سید العالمین ؛ ھذا رسول رب العالمین ؛ یبعثہ اللہ رحمۃ اللعٰلمینترجمہ: یہ تمام جہانوں کا سردار ہے؛ یہ سارے جہان کے رب کا رسول ہے؛اللہ نے اس کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے</p>
<p>جب قریش مکہ نے پوچھا کہ اے بحیرہ تو نے کس طریقے سے ان کو پہچانا تو بحیرہ راہب نے کہاتم اس گھاٹی سے اترے (اس پار) تھے تو ہردرخت ہر پتھر سجدے میں گرگئے تھے اور یہ دونوں نبی کے علاوہ کسی اور کو سجدہ نہیں کرتےمیں نے انہیں کندھے کی ہڈی کے نیچے لگی ہوئی مہر نبوت سے پہچانا ہےبعدہ بحیرہ راہب نے ابو طالب کو ایک مشورہ دیا اور کہا آپ اپنے بھتیجے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس مکہ تشریف لے جائیںکیونکہ یہود اور رومیوں سے ان کو خطرہ ہےاس نے یہ بھی کہا کہ آپ کے بھتیجے بڑی شان و عظمت والے ہونگے چنانچہ ابو طالب نے ایک آدمی کے ساتھ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس مکہ شریف بھیج دیااور ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ابو طالب نے ملک شام میں اپنا سامان جلدی جلدی بینچ کر اپنے ساتھ واپس مکہ تشریف لے آئے(سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ نمبر 183 ؛دلائل النبوۃ صفحہ نمبر 28 اور مسند بزار میں ایک آدمی کو ساتھ بھیجنے کا تذکرہ ہے )جب حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پاک 20 برس کی ہوئی تو ایک جنگ پیش آئی جس کو جنگ فجار سے موسوم کیا جاتا ہےیہ جنگ قریش و کنانہ ؛ قیس اور غیلان کے قبیلوں کے درمیان لڑی گئی اس جنگ کا نام " فجار " اس لیے رکھا گیا کہ یہ حرام مہینوں میں لڑی گئی تھیاس جنگ میں خود حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تھے اور اپنی چچاؤں کو تیر پکڑا رہے تھےاس جنگ کے بعد پانچ قبیلوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھااس معاہدے کو " حلف الفضول " کا نام دیا گیا تھا اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ مکہ میں جو بھی مظلوم نظر آئے مکہ کا باشندہ ہو یا کسی دوسری جگہ کا سب اسکی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اس معاہدے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ" میں عبداللہ بن جدعان کے گھر پر ایک ایسے معاہدے میں شریک ہوا اس کے بدلے مجھے سرخ اونٹ بھی پسند نہیں"جس وقت زور دار سیلاب کی وجہ سے کعبہ شریف کی دیواریں پھٹ گئیں اور مکہ والوں نے کعبہ شریف کا نئے سرے سے تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تھا اس وقت آپﷺ کی عمر مبارک 35 سال تھیقریش کے لوگ مکہ شریف کو ڈھانے سے گھبرا رہے تھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہو جائےتو اس وقت سب سے پہلے ولید بن مغیرہ نے یہ کہہ کر کعبہ کو گرانا شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ درستگی کے کام کرنے والوں کو ہلاک نہیں کرتااس تعمیر میں خود حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم شریک رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ پتھر ڈھو رہے تھےاب کعبے کی تعمیر ہو رہی ہےجب کعبہ کی دیواریں کافی اٹھ (بلند) ہوگیئں اور حجر اسود کو اس کی اپنی جگہ پر رکھنے کے لیے آپس میں جھگڑا ہوا ہر سردار یہ چاہتا تھا کہ حجر اسود کو رکھنے کا شرف اس کو حاصل ہو چار یا پانچ دنوں تک مسلسل یہ جھگڑا چلتا ہے اور قریب تھا کہ خون خرابہ کینوبت آجائے اس وقت ابو امیہ نامی قریش کے سب سے عمر دراز آدمی نے یہ کہہ کر اس کا حل نکالا کہ مسجد حرام کے دروازے سے جو شخص پہلے داخل ہواسیاس جج مان لیا جائے اس وقت مسجد حرام کے دروازے سے سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے لوگوں نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ امین ہیں ہم ان کے فیصلے سے راضی ہیںیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں آپ نے اس جھگڑے کا حل یہ نکالا کہ ایک چادر منگائی اس میں حجر اسود کو رکھا اور سرداروں سے کہا کہ سب اس کا کنارہ پکڑ لیں سب نے کنارے پکڑ کر اٹھایا اور مقام خاص کے پاس رکھ دیا تو جب حجر اسود اپنی جگہ تک پہنچ گیا تو آپ نے اسے اٹھا کر اس کی جگہ پر فٹ کر دیا لوگوں نے آپ کے فیصلے کو پسند کیا اور خوش ہوئےلوگوں نے آپ کے لئے کہا کہ یہ " امین " ہیں اس کی وجہ یہ تھیکہ آپ بہت امانت دار تھے لوگ آپ کو امین کہہ کر یاد کیا کرتے تھے آپ بڑے سچے تھے اس لیے لوگ آپ کو " صادق "کہا کرتے تھےصادق اور امین آپ کے القاب بہت مشہور ہیں۔</p>
<p>آگے کی تفصیل کے لیے تیسری قسط کا انتظار کریں۔</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21642 قارئین📊 4.5 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

''جوامع الکلم'' حضور علیہ السلام کا ایک عظیم الشان معجزہ

غیب داں نبی کی غیبی باتیں

دنیائے گفتار کے مالک

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز