Hamari Aawaz

غزل: یہ حالِ دل کسی کو سنانا فضول ہے

شعر و شاعری
📅 14-12-2020 👁 2 قارئین 💬 0 تبصرے 🔁 0 شیئر
شائع کردہ: ہماری آواز badge

<p>خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان</p>
<p>یہ حالِ دل کسی کو سنانا فضول ہےیوں زخم سینے کے بھی دکھانا فضول ہے</p>
<p>اس عشق میں کسی کو کبھی کچھ ملا نہیںراتوں کی نیند اپنی گنوانا فضول ہے</p>
<p>اس نے تو وعدے اپنے بھلائے ہیں میرے دلاس کی گلی میں میرا یوں جانا فضول ہے</p>
<p>وہ روٹھے ہی نہیں ہیں بدل وہ گئے اے دلرو رو کے اس کو تیرا منانا فضول ہے</p>
<p>اب تو رہ رہ کے ان کی بڑی یاد آتی ہےچہرے سے درد میرا چھپانا فضول ہے</p>
<p>فیضان کبھی وہ لوٹ کے آ نے والے نہیںراہوں میں نظریں اپنی بچھانا فضول ہے</p>

ردِعمل دیں (0)

شیئر کریں (0)

تبصرے (0)

شائع کردہ

badge Assistant Editor ★★★★★
ہ

ہماری آواز

📍 Faizabad

📰 4832 پوسٹ👁 21553 قارئین📊 4.5 اوسط قارئین

نیوز ہوم کے رپورٹر

اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

یوم خواتین پر کچھ اشعار

مقبول ترین پوسٹس

رگوں میں وہ لہو باقی نہیں ہے!

👁 142 ویوز

ایک مسلمان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے؟

👁 110 ویوز

حمد باری تعالیٰ

👁 103 ویوز

یومِ جمہوریہ اور جسمانی ورزش

👁 89 ویوز

یوم اطفال: بچوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کی حفاظت کا موقع

👁 82 ویوز