غزل: رات کے وقت کھلا ہے وہ دریچہ کس کا
📅 13-12-2020
👁 2 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
ہماری آواز
<p>خیال آرائی: فیضان علی فیضان، پاکستان</p>
<p>کس کی آمد ہے کوئی اتنا ہے پیارا کس کارات کے وقت کھلا ہے وہ دریچہ کس کا</p>
<p>جھلملاتا ہے تصور اسے کیسے دیکھیںگھومتا رہتا ہے نظروں میں یہ چہرہ کس کا</p>
<p>کون ہے جس کو میری فکر لگی ہے اتنیمیری حرکت پہ لگا رہتا ہے پہرہ کس کا</p>
<p>کچھ پریشان ہوں چہرہ بھی پسینے میں ہے ترمیری باتوں میں کہاں ذکر بھی آیا کس کا</p>
<p>اجنبی شہر ہے محتاط ہی رہنا ہے ہمیںدھوکہ دے جائے کوئی کیا ہے بھروسہ کس کا</p>
<p>شور میں صاف سنائی نہیں دیتا ہے مجھےدل کی وادی میں ابھی نام یہ گونجا کس کا</p>
<p>میری غزلوں سے تھی فیضان جسے دل چسپیاس کے ہونٹوں پہ ابھی رہتا ہے نغمہ کس کا</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر
اسی زمرے میں مزید

در شان حضور تاج الفقہا، مفتی اختر حسین علیمی دام ظلہ علینا

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا



