غزل: اندھا خواب میں دیکھے تو کیا دیکھے گا
📅 23-12-2021
👁 4 قارئین
💬 0 تبصرے
🔁 0 شیئر
شائع کردہ:
محمد نثار نظامی
<p>ڈاکٹر عابدہ بتول صاحبہ کے لیے بطور داداپنی غزل پیش کرتا ہوں۔</p>
<p>ازقلم: شہباز نیّر</p>
<p>ہر چہرے میں اُس کا چہرہ دیکھے گادِل ، جیسا سوچے گا ویسا دیکھے گا</p>
<p>آنکھوں والو سوچو، سوچ کے بتلاؤاندھا خواب میں دیکھےتو کیادیکھےگا</p>
<p>حاسد شخص کی ایک نشانی یہ بھی ہےجل جائے گا جس کو ہنستا دیکھے گا</p>
<p>وہ میری تعریف کرے تو حیرت کیوںاچھا تو ہر اک کو اچھا دیکھے گا</p>
<p>سارے جسم کو آنکھ بنا کر بھی دیکھےپھر بھی دیکھنے والا کتنا دیکھے گا</p>
<p>تیری آنکھیں دیکھتا ہوں تو حیرت کیوںجس کو پیاس لگے گی ، دریا دیکھے گا</p>
<p>مجھ کو دیکھنے کی خاطر شہباز کوئیسب کی جانب جھوٹا مُوٹا دیکھے گا</p>
<p>رحیم یار خانپنجاب, پاکستان</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Rising Writer
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


