غزل: پڑی تھی پاؤں میں زنجیر کوئی
<p>متاع درد کی تفسیر کوئیذرا پڑھ لے مری تحریر کوئی</p>
<p>ستم یہ ہے ہماری کیفیت پرکہیں ملتا نہیں دلگیر کوئی</p>
<p>مجھے پرواز کا جزبہ تھا لیکنپڑی تھی پاؤں میں زنجیر کوئی</p>
<p>میں جس دن سے موثر ہو گیا ہوںمری کرتا نہیں تسخیر کوئیl</p>
<p>مری آنکھوں سے آنسو بہ رہے ہیںسنبھالے آ کے یہ جاگیر کوئی</p>
<p>جو خود کو معتبر کہتے ہیں انکیکہاں ہے شہر میں توقیر کوئی</p>
<p>مواقع تو ملیں ہم کو بہت سےنہ ہم سے ہو سکی تعمیر کوئی</p>
<p>میں وہ جگنو ہوں کہ خیرات میں ابجسے ملتی نہیں تنویر کوئی</p>
<p>غزل کی بادشاہت میں کبھی ابہوا ہے اور نہ ہوگا میر کوئی</p>
<p>مرے ماں باپ سے بڑھکر نہیں ہیںوہ چاہے سنت ہو یا پیر کوئی</p>
<p>تری یہ بے رخی کرتی ہے ثابتترے پہلو میں ہے تصویر کوئی</p>
<p>تری گفتار سے اندر ہی اندرکی جیسے چبھ رہا ہے تیر کوئی</p>
<p>ہزاروں بار تحفے میں دیا ہےکسی نے پھول تو شمشیر کوئی</p>
<p>دل بے تاب ملنا چاہتا تھامگر کرتا رہا تاخیر کوئی</p>
<p>ہمارے خواب کی ہم کو ہی روشنکبھی نہ مل سکی تعبیر کوئی</p>
<p>افروز روشن کچھوچھوی کچھوچھہ امبیڈکر نگر</p>
تبصرے (0)
شائع کردہ
Assistant Editor
★★★★★
نیوز ہوم کے رپورٹر


